وزیراعلی خیبرپختونخوا کےمعاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان نے پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کی حالیہ پریس کانفرنس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے جھوٹ کا پلندہ، حقائق کے منافی اور محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ قرار دے دیا ہے۔
اپنے ایک بیان میں شفیع جان کا کہنا تھا کہ ذاتیات پر مبنی سیاست کرنا موجودہ حکومت کے وزراء کا انتہائی منفی اور افسوسناک رویہ ہے جو ان کی سیاسی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بیٹوں کو گھسیٹ کر ان پر الزامات لگانا سیاسی انتقام کے سوا کچھ نہیں ہےجبکہ قاسم خان نے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حوالے سے کوئی بھی منفی بات نہیں کی ہے۔
شفیع جان نے وفاقی حکومت کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیٹ اپ عالمی سطح پر ایکسپوز ہو چکا ہے اور حکومت بری طرح بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان اور ان کے بیٹوں کی فون پر ہونے والی گفتگو پر وفاقی حکومت احسان جتانے سے باز رہےکیونکہ اپنے خاندان سے رابطہ کرنا ان کا آئینی اور قانونی حق ہے۔
شفیع جان کے مطابق وفاق اور پنجاب حکومت نے عمران خان کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں اور انہیں فیملی سے ملاقات تک کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
معاون خصوصی نے مزید کہا کہ عید جیسے مقدس موقع پر باپ اور بیٹوں کی گفتگو پر منفی سیاست کرنا اس نااہل ٹولے کا پرانا وطیرہ رہا ہے اور وفاقی وزراء قاسم خان کے بیان کو توڑ مروڑ کر قوم کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے عظمیٰ بخاری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاید وہ بھارتی کاروباری شخصیت سجن جندال کی نواز شریف سے مری میں ہونے والی خفیہ ملاقات بھول چکی ہیں۔
شفیع جان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور ان کے خاندان کے خلاف بے بنیاد الزامات لگا کر دراصل عوام کی توجہ اصل ملکی مسائل سے ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
شفیع جان نے ملکی معاشی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عوام بنیادی سہولیات کے فقدان، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں لیکن حکومتی ترجمانوں کو الزام تراشی سے فرصت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث عوام بے روزگاری اور گورننس کے بدترین مسائل سے پریشان ہیں، تاہم اب وفاق پر مسلط اس کرپٹ ٹولے کے دن گنے جا چکے ہیں اور اس جعلی حکومت کا جلد خاتمہ یقینی ہے۔





