کراچی: کراچی میں وزیراعظم شہباز شریف سے ایم کیو ایم پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی، جس میں آئینی ترمیم اور کراچی کی ترقی سے متعلق اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق خالد مقبول صدیقی کی سربراہی میں ہونے والی اس ملاقات میں ایم کیو ایم وفد نے 28ویں آئینی ترمیم لانے کی تجویز پیش کی، جس میں آرٹیکل 140 اے کو شامل کرنے پر بھی زور دیا گیا۔ وفد نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے کے لیے جلد پیش رفت کا مطالبہ کیا۔
ملاقات میں وفاقی وزیر سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، کامران ٹیسوری، فیصل سبزواری اور امین الحق بھی شریک تھے، جبکہ حکومتی جانب سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، رانا ثناء اللہ، عطاء تارڑ اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ بھی موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان واحد ملک ہے جس کے تینوں بڑی طاقتوں، چین، امریکہ اور روس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، بھارتی تجزیہ نگار پراوین ساہنی کا اعتراف
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے آئینی ترامیم کے معاملے پر مزید مشاورت کے لیے آئندہ ہفتے ایک اور ملاقات پر اتفاق کیا ہے۔ ساتھ ہی گورنر سندھ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایم کیو ایم قیادت سے مسلسل رابطے میں رہیں اور مکمل تعاون فراہم کریں۔
اجلاس کے دوران ڈاکٹر فاروق ستار نے گورنر سندھ کی تبدیلی پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ اس فیصلے میں ایم کیو ایم کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ اس پر وزیراعظم نے وضاحت دی کہ گورنر کی تبدیلی ایک سیاسی فیصلہ تھا۔
ایم کیو ایم وفد نے کراچی ترقیاتی پیکج پر کام تیز کرنے کا بھی مطالبہ کیا، جس پر وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ اس سلسلے میں جلد پیش رفت ہوگی۔
ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال اور خطے میں امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
دریں اثنا گورنر ہاؤس کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو مدعو کرنے کی پیشکش کی گئی، جسے ایم کیو ایم قیادت نے قبول کرتے ہوئے جلد ملاقات کا عندیہ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پی ایس ایل 11 میں نیا قانون متعارف
سیاسی ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو اہم ذمہ داری سونپنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس مقصد کے لیے ایک رابطہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جس میں رانا ثناء اللہ، اعظم نذیر تارڑ اور احسن اقبال شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ کمیٹی کراچی سمیت سندھ میں ترقیاتی منصوبوں اور سیاسی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے کام کرے گی، جبکہ آئینی و قانونی معاملات پر ایم کیو ایم سے مشاورت بھی جاری رکھی جائے گی۔
وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ توانائی پالیسی، کفایت شعاری اقدامات اور دیگر اہم فیصلوں میں ایم کیو ایم کو اعتماد میں لیا جائے گا، جبکہ وفاقی وزرا جلد کراچی کا دورہ بھی کریں گے۔





