تہران: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران تہران میں پاکستانی سفارت خانے اور سفیر کی رہائش گاہ کے قریبی علاقوں میں زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کی جانب سے تہران پر کیے گئے تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں سفارت خانے کے اطراف کا علاقہ لرز اٹھا۔ تاہم خوش قسمتی سے پاکستانی سفارتی عملہ محفوظ رہا اور سفارت خانے کی عمارت کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
دفترِ خارجہ کے ذرائع اور سفارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ تمام پاکستانی افسران اور عملہ خیریت سے ہیں۔ اس کے باوجود دھماکوں کی شدت کے باعث قریبی علاقوں میں شدید خوف و ہراس کی فضا قائم ہو گئی ہے۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اپنے 27ویں روز میں داخل ہو چکی ہے، اور اسرائیل و امریکا کی جانب سے تہران میں فوجی تنصیبات اور اہم سرکاری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان کی جانب سے ایک 15 نکاتی امن منصوبہ بھی ایرانی قیادت تک پہنچایا جا چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں 28 مارچ کو ارتھ آور منایا جائے گا
سفارت خانے کے قریب دھماکوں کے بعد پاکستانی حکام نے ایرانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سفارتی عملے اور مشنز کی سیکیورٹی مزید سخت کی جائے۔
ماہرین کے مطابق سفارتی تنصیبات کے قریب بمباری بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جاتی ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ادھر تہران میں موجود پاکستانی شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سفارت خانے سے مسلسل رابطے میں رہیں۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور تہران سے موصول ہونے والی رپورٹس کا مسلسل جائزہ لیا جا رہا ہے۔





