اسلام آباد: حکومتِ پاکستان نے اسمارٹ فونز کی خریداری کے حوالے سے نئی پالیسی متعارف کروا دی ہے، جس میں کارکردگی اور سیکیورٹی کے لیے سخت معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد سرکاری اداروں میں جدید اور محفوظ ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (NITB) کو تقریباً 24 ہزار نئے اینڈرائیڈ اسمارٹ فونز درکار ہیں، جن کی خریداری کے لیے واضح تکنیکی شرائط طے کر دی گئی ہیں۔
ان تمام ڈیوائسز کے لیے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کی منظوری لازمی قرار دی گئی ہے تاکہ غیر رجسٹرڈ یا غیر معیاری موبائل فونز کے استعمال کو روکا جا سکے۔
پالیسی میں اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے کہ خریدے جانے والے اسمارٹ فونز جدید کارکردگی کے حامل ہوں اور ان میں مضبوط سیکیورٹی فیچرز موجود ہوں۔
اس ضمن میں ڈیٹا پروٹیکشن، محفوظ کمیونیکیشن اور سرکاری استعمال کے لیے موزوں سافٹ ویئر سپورٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : تہران میں پاکستانی سفارت خانے کے قریب بمباری، عملہ و عمارت محفوظ
مزید برآں تمام ڈیوائسز کے لیے یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ وہ مکمل طور پر نئے (برینڈ نیو) ہوں، تاکہ استعمال شدہ یا ریفربشڈ فونز سے وابستہ سیکیورٹی خطرات سے بچا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ پالیسی سرکاری سطح پر ڈیجیٹل نظام کو مضبوط بنانے، سائبر سیکیورٹی کو بہتر کرنے اور معیاری ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اس سے نہ صرف اداروں کی کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ ڈیجیٹل گورننس کو بھی زیادہ محفوظ اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔





