ابھی موقع ضائع نہ کریں: الیکٹرک بائیک سے نیا سفر شروع کریں

ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوش ربا اضافے اور پٹرول پمپ مالکان کی ہڑتال کی دھمکیوں نے عام آدمی کی جیب پر شدید بوجھ ڈال دیا ہے۔

پٹرول کی قیمت 300 روپے فی لیٹر کے پار پہنچنے کے بعد شہری تیزی سے روایتی بائیکس کے بجائے الیکٹرک بائیکس کی طرف مائل ہو رہے ہیں، جسے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق الیکٹرک بائیکس کے چلانے کے اخراجات روایتی بائیک کے مقابلے میں صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ ان میں انجن، موبائل آئل، فلٹرز اور چین گراری سیٹ کی مینٹیننس کے مسائل نہیں ہوتے، جس سے ماہانہ سروس کے اخراجات میں بھی بچت ہوتی ہے۔

مزید برآں صارفین رات بھر اپنے گھریلو پلگ سے بائیک چارج کر کے اگلے دن کا سفر آسانی سے طے کر سکتے ہیں، جس سے لمبی لائنوں میں انتظار کرنے کی ضرورت ختم ہو جاتی ہے۔

شور اور دھوئیں سے پاک ہونے کی وجہ سے یہ بائیکس شہروں میں بڑھتی ہوئی آلودگی کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : دبئی اور متحدہ عرب امارات میں طوفانی بارشیں، ژالہ باری سے کئی علاقے متاثر

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پٹرول کی قیمتیں اسی طرح بڑھتی رہیں اور بجلی کی قیمتوں میں استحکام رہا، تو اگلے دو سالوں میں پاکستان کی سڑکوں پر 30 سے 40 فیصد موٹر سائیکلیں الیکٹرک ہو سکتی ہیں۔

حکومت کی جانب سے الیکٹرک گاڑیوں کی حوصلہ افزائی کے لیے ٹیکس میں کمی اور آسان اقساط پر فراہمی کے منصوبے بھی جاری کیے گئے ہیں، جس سے خریداروں کا اعتماد مزید بڑھا ہے۔

مقامی کمپنیاں اب ایسی بائیکس متعارف کروا رہی ہیں جو ایک بار چارج کرنے پر 80 سے 100 کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔

Scroll to Top