اسلام آباد: پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے دائرہ کار میں توسیع کر دی گئی ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اب غیر ملکی شہریوں اور کمپنیوں کو پاکستان میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور حکومتی سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری کی اجازت ہوگی۔ حکومت کا مقصد پلیٹ فارم کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاری کو متحرک کرنا اور ملکی معیشت میں استحکام لانا ہے۔
روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے بیرون ملک مقیم پاکستانی بغیر پاکستان آئے اپنا بینک اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ گزشتہ ساڑھے پانچ سال میں یہ پلیٹ فارم نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔
فروری 2026 کے اختتام تک 9 لاکھ سے زائد اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں، جبکہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں سرمایہ کاری کی مجموعی رقم 12 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اقدام کے پیچھے اوورسیز پاکستانیوں کی مالی معاونت اور اعتماد کا بڑا کردار ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں پاکستان کو حاصل ہونے والی ترسیلات زر 38.3 ارب ڈالر ہوئیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 26.6 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2026 میں ترسیلات زر 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیں : مٹی کے تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
پاکستان دنیا میں ترسیلات زر وصول کرنے والے ممالک میں پانچویں نمبر پر اور جنوبی ایشیا میں دوسرا بڑا ملک ہے۔ ترسیلات زر بیرونی کھاتوں کے استحکام اور ملکی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔ اس وقت اسٹیٹ بینک کے زر مبادلہ کے ذخائر 16.3 ارب ڈالر جبکہ مجموعی ذخائر 21.6 ارب ڈالر ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر خزانہ، گورنر اسٹیٹ بینک اور متعلقہ بینکوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں توسیع سے پاکستان سرمایہ کاری کے لیے مزید پرکشش ملک کے طور پر ابھرے گا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی سرمایہ کاری کے لیے تیار ہے اور حکومتی اصلاحات سے شفاف اور سازگار ماحول فراہم کیا جا رہا ہے، تاکہ دنیا بھر کے سرمایہ کار پاکستان میں مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔





