فینسی نمبر پلیٹس والے خبردار، اہم انتباہ جاری

کراچی : شہر قائد میں گاڑیوں کی فینسی، پرائیویٹ یا حکومت سے غیر منظور شدہ نمبر پلیٹس کے خلاف سخت کارروائی کا باقاعدہ آغاز 30 مارچ سے کیا جائے گا۔

اس سلسلے میں سندھ حکومت کی جاری کردہ، بالخصوص نئی اجرک ڈیزائن والی نمبر پلیٹس ہی قانونی طور پر قابلِ قبول ہوں گی، جبکہ دیگر کسی بھی غیر قانونی نمبر پلیٹس کے استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔

ڈی آئی جی ٹریفک، پیر محمد شاہ نے اے آر وائی نیوز کو بتایا کہ ای ٹکٹنگ سسٹم کے تحت تقریباً 70 فیصد گاڑیوں کو چالان نہیں کیا جا سکا کیونکہ ان پر نمبر پلیٹس ہی موجود نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اب غیر قانونی نمبر پلیٹس کے خلاف سخت کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کریک ڈاؤن کے دوران نہ صرف ٹریفک پولیس بلکہ ضلعی پولیس، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے بھی مشترکہ کارروائی کریں گے۔

خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے جبکہ گاڑیاں ضبط کرکے مقدمات بھی درج کیے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : اب بیرون ملک بیٹھے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری ممکن، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں بڑی توسیع

شہریوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیوں پر سرکاری منظور شدہ نمبر پلیٹس لگوائیں۔ اگر کسی کے پاس اصل نمبر پلیٹ دستیاب نہیں تو وہ عارضی طور پر اسی ڈیزائن، رنگ اور سائز کی پلیٹ استعمال کر سکتا ہے، بشرطیکہ اس نے ایکسائز میں درخواست جمع کروا رکھی ہو۔

ایکسائز حکام نے شہریوں کی سہولت کے لیے شہر کے مختلف مقامات پر خصوصی بوتھ بھی قائم کر دیے ہیں تاکہ نمبر پلیٹس کے اجرا میں آسانی فراہم کی جا سکے۔

واضح رہے کہ غیر قانونی نمبر پلیٹس استعمال کرنے والے تمام گاڑی مالکان کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کی جائے گی۔

تمام شہریوں سے اپیل ہے کہ کسی بھی پریشانی سے بچنے کے لیے فوراً اپنی گاڑیوں کی نمبر پلیٹس درست کروائیں اور صرف سرکاری منظور شدہ نمبر پلیٹس استعمال کریں۔

Scroll to Top