یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ: زیلنسکی کا اہم اعلان

یوکرین: یوکرین کے صدر ویلادیمیر زیلنسکی نے اعلان کیا ہے کہ یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے گئے ہیں، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔

یوکرینی صدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ یہ معاہدہ یوکرین کی وزارت دفاع اور سعودی عرب کی وزارت دفاع کے درمیان طے پایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے کی دستاویز مستقبل میں مزید دفاعی معاہدوں، ٹیکنالوجیکل تعاون اور سرمایہ کاری کی بنیاد فراہم کرے گی اور یوکرین کے دفاعی کردار کو عالمی سطح پر مضبوط بنائے گی۔

زیلنسکی نے کہا کہ یہ معاہدہ انسانی جانوں کے تحفظ، دفاعی مہارت اور نظام کی ترقی کے لیے اہم ہے، اور یوکرین سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یوکرین گزشتہ پانچ سال سے بلیسٹک میزائل اور ڈرون حملوں کی مزاحمت کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب بھی ایسے دفاعی نظام کی صلاحیت رکھتا ہے جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

صدر زیلنسکی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات میں مشرق وسطیٰ اور خلیج کی موجودہ صورتحال، روس کی ایران کی حمایت، توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون اور عالمی تیل کی مارکیٹ پر اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

یہ بھی پڑھیں : قبضہ مافیا اور بدمعاش عناصر کے خلاف ڈی پی او صوابی نے واضح ہدایات جاری کر دیں

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے ایران کی جانب سے داغے گئے سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائل ناکارہ بنا دیے گئے ہیں، اور صرف جمعے کو تقریباً چھ میزائل ناکارہ قرار دیے گئے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین نے ایران کے ممکنہ حملوں کے تناظر میں دفاعی تعاون کی خواہش ظاہر کی تھی۔ اس سلسلے میں زیلنسکی نے بتایا کہ 201 اینٹی ڈرون ماہرین مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے گئے ہیں۔

یوکرین کے ایئر ڈیفنس کور فورسز کے ڈپٹی کمانڈر یوری چیرریواشینکو نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں ڈرونز کا مقابلہ ریت کے طوفان جیسے خطرناک حالات میں ہوتا ہے، لیکن کامیابی کا دارومدار پائلٹ کی مہارت پر ہے۔

یوکرین نے انٹرسیپٹر ڈرونز تیار کر کے روس کے ڈرون حملوں کا مؤثر اور سستا جواب تیار کیا ہے، اور 2024 کے آخر سے روسی ڈرون حملوں میں شدت آگئی ہے، جس میں صرف اس سال سردیوں میں 19 ہزار سے زائد ڈرون حملے یوکرین پر کیے گئے۔

Scroll to Top