ایران کو آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گا، ہم ایرانی رجیم کے خطرے کو ختم کر رہے ہیں، ٹرمپ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ کی فوج نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور ایران ڈیل کے لیے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

صدر ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو اور میامی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایران کی جانب سے نیوکلیئر بلیک میلنگ کے خاتمے پر زور دیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران کے پاس ایٹم بم ہوتا تو وہ مشرق وسطیٰ میں استعمال کر چکا ہوتا، تاہم امریکی حکومت نے ایرانی رجیم کے خطرات کو ختم کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں دنیا کے بدترین عناصر کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جبکہ موجودہ حکومت ایسے جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت موقف رکھتی ہے جو ملک میں جرائم میں ملوث ہوں۔

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ امریکہ کے صدر نہ ہوتے تو امریکہ کا آج وجود نہ رہتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جرائم پیشہ افراد اور قاتلوں کو ملک سے نکالا۔

ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کو آبنائے ہرمز کھولنا پڑے گا، اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے بڑے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران معاہدہ ختم کرتا تو آج اس کے پاس ایٹم بم ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں : یوکرین اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ: زیلنسکی کا اہم اعلان

صدر ٹرمپ نے ایران کے نئے سپریم لیڈر کے بارے میں کہا کہ ان کا کوئی ٹھوس پتہ نہیں چل رہا، اگر وہ زندہ بھی ہیں تو بری حالت میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں، لیکن آبنائے ہرمز کھلا ہونا چاہیے۔

اس کے علاوہ صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ پر بھی تبصرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ میں نو جہاز گرائے گئے، اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کو بہترین شخصیت قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ٹیرف کے ذریعے جنگ کو روکا اور خود نوبیل انعام کے مستحق ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایران کی جانب سے سعودی عرب پر ممکنہ حملے کے تناظر میں کہا کہ امریکہ نے پہلے ہی اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے اور ایران کو قابو میں رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھایا گیا۔

Scroll to Top