این اے 256 انتخابات مؤخر کرنے کی درخواست پر جے یو آئی کا سخت ردعمل

اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے این اے 256 کے ضمنی انتخابات مؤخر کرنے کے لیے بلوچستان حکومت کی درخواست کو بدترین بددیانتی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔

جے یو آئی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت جہاں اپنی شکست دیکھتی ہے وہاں سیکیورٹی کو جواز بنا کر انتخابات سے راہ فرار اختیار کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کی فکر نہیں بلکہ حکمرانوں کو اپنی یقینی شکست کا خوف لاحق ہے۔جے یو آئی کے رہنما اسلم غوری نے کہا کہ چند روز قبل قلات میں اس سے بھی بدتر حالات میں نہ صرف انتخابات کرائے گئے بلکہ رمضان المبارک کے دوران دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے، اس لیے موجودہ مؤقف تضاد کا شکار ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکمران ہر انتخاب کو مشتبہ بنا کر جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد ختم کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اگر سیکیورٹی مسائل واقعی موجود ہیں تو یہ حکومت کی ناکام حکمرانی کا نتیجہ ہے۔

ترجمان جے یو آئی نے واضح کیا کہ اگر حکومت عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں بنا سکتی تو اسے اقتدار چھوڑ دینا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : قبضہ مافیا اور بدمعاش عناصر کے خلاف ڈی پی او صوابی نے واضح ہدایات جاری کر دیں

انہوں نے بلوچستان حکومت کے اس فیصلے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات جمہوری عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

اسلم غوری نے مزید کہا کہ دھاندلی کے ذریعے اقتدار میں آنے والے حکمران جمہوری نظام کو دیمک کی طرح کھوکھلا کر رہے ہیں، جس کے باعث عوام کا اعتماد مسلسل کمزور ہو رہا ہے۔

جے یو آئی نے مطالبہ کیا کہ این اے 256 کے ضمنی انتخابات کو مقررہ وقت پر شفاف انداز میں کرایا جائے تاکہ عوام کا جمہوری عمل پر اعتماد بحال ہو سکے۔

Scroll to Top