پاکستان اور خطے کے امن کے خلاف ایک مبینہ خطرناک سازش بے نقاب ہونے کا دعویٰ سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف ایک منظم اور اسٹریٹجک ڈس انفارمیشن مہم چلائی۔
میڈیا رپورٹس اور ماہرین کے ذرائع کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کی امن کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے ایک خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے جعلی بیانیہ تیار کیا گیا۔ اس مہم کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر متنازعہ بنانا اور اس کے سفارتی کردار کو نقصان پہنچانا بتایا جا رہا ہے۔
تحقیقات کے مطابق اس پروپیگنڈا مہم میں جعلی ایرانی شناختوں کا سہارا لیا گیا، جن کے ذریعے سوشل میڈیا پر پاکستان مخالف مواد پھیلایا گیا۔ ‘آئی این این ایران نیوز’ اور ‘ایران ٹی وی’ جیسے ناموں سے بنائے گئے گھوسٹ اکاؤنٹس نے جھوٹے الزامات اور من گھڑت خبریں پھیلانے کا سلسلہ شروع کیا۔

ذرائع کے مطابق پاکستان پر امریکا کے لیے تیل کی ترسیل کا جھوٹا الزام لگا کر نفرت انگیز بیانیہ تخلیق کیا گیا تاکہ ایران اور پاکستان کے درمیان بداعتمادی پیدا کی جا سکے۔ اس مہم میں درجنوں اکاؤنٹس استعمال کیے گئے، جن میں سے کچھ بھارت جبکہ کچھ افغانستان سے آپریٹ کیے جا رہے تھے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مہم میں تین سطحی حکمت عملی اپنائی گئی:
انیشی ایٹر بیانیہ تیار کرنا
پروفلیریٹر مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے بیانیہ پھیلانا
ایمپلیفائر بیانیہ کو وسیع پیمانے پر پھیلانا تاکہ حقیقی ردعمل کا تاثر دیا جا سکے
تجزیہ کاروں کے مطابق بیانیہ سازی اور اسٹریٹجک کنٹرول بھارتی نیٹ ورکس کے ہاتھ میں تھا، جبکہ پھیلاؤ کے لیے افغان نیٹ ورکس بطور ‘پروفلیریٹرز’ استعمال کیے گئے۔ اس طرح مصنوعی ایرانی ردعمل تخلیق کر کے پاکستان کو ایران مخالف اور مغربی ایجنڈے کا حصہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ڈس انفارمیشن مہم نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جدید دور میں ‘انفارمیشن وار فیئر’ ایک طاقتور ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے بغیر کسی روایتی جنگ کے ممالک کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
سرکاری حلقوں نے بتایا ہے کہ پاکستان کے ادارے اس قسم کی سازشوں سے نمٹنے کے لیے چوکس ہیں اور ہر سطح پر مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہ کریں اور سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبروں کی تصدیق کریں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سازش کے بے نقاب ہونے سے پاکستان کا عالمی کردار مزید واضح ہوا ہے اور یہ ثابت ہوا کہ ملک نہ صرف اپنی سلامتی بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی متحرک کردار ادا کر رہا ہے





