گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی نے کئی بار فورسز بنائی ہیں، جن کے مقصد اور وجوہات واضح نہیں کی گئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی کے بیٹے نے پاکستان کے خلاف متنازع بیانات دیے ہیں، جس پر حکومت اور عوام کو فکر مند ہونا چاہیے۔
گورنر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں اور قیادت خود ان تنازعات کو سمجھ نہیں پا رہی۔ انہوں نے کہا کہ جس ریاست نے پی ٹی آئی کو قائم کیا اور اسے مواقع دیے، اب اسے قاتل ریاست کہنا شروع کر دیا گیا ہے۔ گورنر نے خبردار کیا کہ اگر اسلام آباد کی طرف پیش قدمی کی گئی تو پارٹی کو حقیقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا:”یہ لوگ صوابی سے آگے جا کر دکھائیں، انہیں پتہ لگ جائے گا کہ دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں اور ہر جگہ انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان کا نام گونج رہا ہے۔ فیلڈ مارشل کی محنت کی بدولت پاکستان کا نام دنیا میں روشن ہے۔”
گورنر نے صوبائی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا کی کابینہ میں داخلی اختلافات اور لڑائی جھگڑے جاری ہیں، اور بلدیاتی نمائندوں کو 4 سال تک نظر انداز کیا گیا، ان کے فنڈز اور تنخواہیں نہیں دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ سابقہ وزیراعلیٰ کے خاندان کے افراد پر بھی کافی چرچے رہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کفایت شعاری کے لیے محدود وسائل استعمال کر رہی ہے، جیسے پٹرول کی بچت کے اقدامات، جبکہ پی ٹی آئی کی اندرونی کشمکش جاری ہے۔ گورنر نے واضح کیا کہ پارٹی کی قیادت اور بانی کے بیٹے کے متنازع بیانات ملک کی سلامتی اور ساکھ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔





