شیراز احمد شیرازی
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی دارالحکومت میں واقع خیبرپختونخوا ہاؤس میں بڑے پیمانے پر انتظامی تبدیلیاں کرتے ہوئے 142 سے زائد ملازمین کے فوری تبادلے کر دیے ہیں۔
محکمہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ان ملازمین میں مالی، سویپرز، باورچی، ڈش واشر اور ویٹرز سمیت نچلے درجے کا تمام عملہ شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ غیر معمولی قدم سیکیورٹی خدشات اور رازداری برقرار رکھنے کے نام پر اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی جانب سے مبینہ طور پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ کے پی ہاؤس سے اہم سرکاری معلومات اور خبریں لیک ہو رہی ہیں۔
اس کے علاوہ ان ملازمین پر سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کی حمایت اور ان کے ساتھ تعاون کرنے کا بھی الزام ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق مالی اسٹاف (BS-03) میں علی اکبر، رضوانہ بی بی، افتخار حسین، لقمان خان، اقبال حسین، میاں نور الوحید اور سجاد سمیت متعدد افراد کو ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ، شاہی مہمان خانہ پشاور، کے پی ہاؤس مردان اور فاٹا سرکٹ ہاؤس پشاور منتقل کر دیا گیا ہے۔
سویپر اسٹاف میں بھی بڑی تبدیلی کی گئی ہے جس میں ریاض مسیح، آصف مسیح، بابر صادق، شان مسیح، بھوٹا مسیح اور رفیق مسیح شامل ہیں۔ اسی طرح ڈش واشر عملے سے طارق محمود، شاہد اللہ خان، عاصم پرویز، محمد زبیر اور جانسن کو شاہی مہمان خانہ پشاور بھیج دیا گیا ہے۔ فراش اسٹاف سے محمد حفیظ، محمد ذیراف اور کاشف علی کو ایڈمنسٹریشن اور مردان تبادلہ کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا ہاؤس کے باورچی خانوں میں تعینات نو (9) باورچیوں (BS-06) جن میں محمد سفیر، جعفر علی شاہ، فیصل زمان، نائب علی، نعمان خان، فضل واحد، سعید اللہ، حبیب الرحمان اور شاہین خان شامل ہیں، انہیں بھی شاہی مہمان خانہ اور ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ویٹر اسٹاف سے عنایت اللہ، نعمت اللہ اور فیض محمد کے تبادلے بھی عمل میں لائے گئے ہیں۔
محکمہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ تبادلے کے پی ہاؤس اسلام آباد، مردان، ایبٹ آباد، نتھیا گلی اور پشاور کے مراکز کے درمیان کیے گئے ہیں اور تمام 142 ملازمین کو فوری طور پر اپنی نئی تعیناتیوں پر رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔





