صوبے کے ساتھ ناانصافی ناقابلِ قبول، این ایف سی ایوارڈ پر اسد قیصر کا ردعمل سامنے آگیا

صوبے کے ساتھ ناانصافی ناقابلِ قبول، این ایف سی ایوارڈ پر اسد قیصر کا ردعمل سامنے آگیا

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں ایک بار پھر خیبر پختونخوا کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ 2010 کا این ایف سی ایوارڈ 1998 کی مردم شماری کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا، جس کے باعث صوبے کو بڑھتی ہوئی آبادی کے باوجود اس کا مکمل اور جائز حصہ نہیں مل سکا۔

انہوں نے کہا کہ 2018 میں فاٹا کے انضمام کے بعد خیبر پختونخوا کا رقبہ 9.4 فیصد سے بڑھ کر تقریباً 13 فیصد ہو گیا، جبکہ آبادی بھی 12 فیصد سے بڑھ کر 17.3 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے باوجود 2026 میں بھی صوبے کو آبادی اور رقبے کے تناسب سے اس کا حق نہ ملنا تشویشناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

اسد قیصر کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں عوام نے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر گھر سے لوگوں نے جانوں کا نذرانہ پیش کیا، کاروبار تباہ ہوئے اور معیشت کو شدید نقصان پہنچا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایسے حالات میں وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ صوبے کے ساتھ انصاف کرے، تاہم تمام حقائق اور قربانیوں کے باوجود این ایف سی ایوارڈ میں خیبر پختونخوا کو اس کا آئینی اور قانونی حق نہ دینا افسوسناک اور قابلِ مذمت ہے۔ ان کے مطابق یہ عمل نہ صرف صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے بلکہ قومی یکجہتی کے تقاضوں کے بھی منافی ہے۔

Scroll to Top