واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیانات میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں حکومت میں تبدیلی واقع ہو چکی ہے اور اب وہ نئے عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ کے مطابق ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف جلد یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ امریکا کے ساتھ تعاون کرنے پر تیار ہیں یا نہیں، اور ایک ہفتے کے اندر اس حوالے سے معلومات سامنے آ جائیں گی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے نئے حکومتی افراد پہلے سے زیادہ معقول اور بات چیت کے لیے تیار نظر آ رہے ہیں، جس کے باعث امریکا کے لیے معاملات کو آگے بڑھانا آسان ہو گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر کے بارے میں باضابطہ کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں، تاہم ان کے خیال میں مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں لیکن صحت کی صورتحال خراب ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا اور آبنائے ہرمز جلد کھولی نہ گئی تو امریکا ایران کے اہم تنصیبات، بشمول بجلی پیدا کرنے والے کارخانے، تیل کے کنوئیں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس، کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : امریکا، اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد ایران کے شہر اصفہان میں زوردار دھماکے
ان کا کہنا تھا کہ یہ تمام مقامات اب تک جان بوجھ کر نہیں چھیڑے گئے ہیں لیکن ممکنہ صورت میں تباہ کیے جا سکتے ہیں۔
صدر کے بیانات خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر سکتے ہیں، اور بین الاقوامی برادری کی توجہ ایران اور خلیج فارس کے حالات پر مرکوز ہے۔
امریکی انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تعلقات میں اس نوعیت کے اعلانات خطے میں ممکنہ کشیدہ صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔





