شہزاد نوید
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مینگورہ سوات نے ایک اہم فیصلے میں تحریک انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی ڈاکٹر امجد علی کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
عدالت نے یہ فیصلہ فریقین کے دلائل اور کیس کے حقائق کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھتے ہوئے صادر کیا۔
کیس کے پس منظر کے مطابق خوزہ خیلہ کے رہائشی ساجد علی نے ڈاکٹر امجد علی پر ریاست مخالف تقریر، اداروں کی تضحیک اور بدامنی پھیلانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس سے قبل کوکارائ تھانے میں درج ایف آئی آر کو عدالت نے خارج کر دیا تھا، جس کے بعد مدعی نے سیشن عدالت سے رجوع کیا تھا۔
عدالتی حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کسی بھی بااثر شخصیت کو قانونی کارروائی سے استثنیٰ حاصل نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ایسے اقدامات معاشرے میں شفافیت، احتساب اور انصاف کے فروغ کے لیے ناگزیر ہیں جو ایک منظم ریاست کی بنیاد ہوتے ہیں۔
عدالتی حکم کے بعد اب پولیس ڈاکٹر امجد علی کے خلاف دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت باقاعدہ کارروائی شروع کرے گی۔





