شاہد جان
پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کی صوبائی تنظیم کے اہم اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں جس میں شرکاء نے اپنی ہی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اراکین نے موقف اختیار کیا کہ ماضی میں صوبے میں گڈ گورننس پر توجہ نہیں دی گئی، اب حکومت کو پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق طرزِ حکمرانی میں فوری بہتری لانی چاہیے۔
اجلاس کے دوران بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز اور اختیارات نہ ملنے پر بھی بحث کی گئی اور آئندہ بلدیاتی انتخابات کے لیے مضبوط قانون لانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
اراکین نے وزیراعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وزراء خود کو کارکردگی کے لیے جوابدہ نہیں سمجھتے، لہٰذا ان کی مانیٹرنگ کے لیے ‘کی پرفارمنس انڈیکیٹرز (KPIs) مقرر کیے جائیں۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حکومتی کارکردگی بہتر بنانے اور صوبائی تنظیم کے ساتھ روابط مزید فعال کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں مراد سعید کی نااہلی کے بعد ان کی خالی نشست پر کسی نظریاتی کارکن کو ٹکٹ دینے کی تجویز دی گئی اور اراکین نے اس نشست کے لیے عرفان سلیم کا نام پیش کیا۔
علاوہ ازیں،عمران خان رہائی موومنٹ کے تحت 10 لاکھ ممبرسازی کا ہدف جلد مکمل کرنے پر زور دیا گیاجس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ مہم کے بعد پارٹی کے ہر فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے گا۔
اجلاس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان، بشریٰ بی بی کی مسلسل قید اور جیلوں میں موجود کارکنوں کو عدالتوں سے ریلیف نہ ملنے پر بھی شدید افسوس اور مذمت کا اظہار کیا گیا۔





