شاہد جان
کے پی ایسپائر اور قومی اصلاحی تحریک کے زیر اہتمام آج پشاور میں پاکستان افغانستان امن جرگے کا انعقاد کیا گیا جس میں خیبرپختونخوا کے سیاسی قائدین،علما، قبائلی رہنما اور سماجی کارکنان نے شرکت کی۔
جرگے کے اختتام پر جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان برادر ہمسایہ ممالک ہیں جو مشترکہ دینی، ثقافتی ورثے اور سماجی اقدار کے حامل ہیں لہٰذا دونوں ممالک کے عوام کے لیے جنگ اور تصادم کی موجودہ کشیدہ صورتحال انتہائی تشویشناک اور اندوہناک ہے۔
اعلامیے میں دونوں ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کر کے اس پر سختی سے عمل درآمد کریں تاکہ سرحدی تناؤ میں کمی لائی جا سکے۔
جرگے نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دونوں ممالک اپنی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم پر اپنی ریاستی طاقت اور پوری استعداد کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔
اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ پائیدار امن کے لیے باہمی احترام، افہام و تفہیم، مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد ترجیح ہونی چاہیے۔
جرگے نے تجویز دی ہے کہ دونوں ممالک ایک مشترک اور مستقل پلیٹ فارم کے تحت مسلسل رابطوں کا اہتمام کریں تاکہ ایک دوسرے کے موقف، حالات اور مجبوریوں کو سمجھنے میں آسانی پیدا ہو سکے۔
اعلامیے کے مطابق اعتماد سازی کے لیے ٹھوس اقدامات کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ سرحد کے دونوں جانب بسنے والے عوام کے وسیع تر مفاد میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس کاوش کا بنیادی مقصد اجتماعی فہم و فراست کے ذریعے تناؤ میں کمی لانا اور امن کی طرف پیش رفت کے لیے ٹھوس تجاویز ترتیب دینا ہے۔





