امریکی صدر نے 2 سے 3 ہفتوں میں ایران جنگ سے نکلنے کا اعلان کر دیا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا دو سے تین ہفتوں میں ایران جنگ سے نکل جائے گا، اور ممکنہ طور پر اس سے پہلے کوئی ڈیل بھی ہو سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران میں رجیم چینج پہلے ہی ہو چکی ہے، لیکن امریکا کا اصل مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا تھا، اور یہ ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

ٹرمپ نے کہا امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات کے بغیر بھی جنگ ختم کر سکتا ہے، ہمارے پاس تمام آپشنز موجود ہیں کہ بغیر کسی معاہدے کے فوجی کارروائی روکی جا سکتی ہے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران اگلے 4 سے 5 سال تک جوہری ہتھیار بنانے کے قابل نہیں ہوگا۔ جب ایران دوبارہ اس قابل ہوگا تو امریکا میں کوئی نیا صدر آئے گا اور پھر ایران کو تباہ کر دے گا، کیونکہ یہ قابل قبول نہیں کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار ہوں۔

یہ بھی پڑھیں : گنڈربل کے ارہما علاقے میں بھارتی فوج اور کشمیری جنگجوؤں کے درمیان شدید فائرنگ

ٹرمپ نے ایران کی فوجی اور انتظامی طاقت پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کو دوبارہ تعمیر کرنے میں 15 سے 20 سال لگیں گے۔ ان کے پاس نہ نیوی ہے، نہ فوج، نہ ایئر فورس اور نہ قیادت، ان کے لیڈرز کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یورپی ممالک کو بھی خبردار کیا کہ اگر وہ تیل اور گیس چاہتے ہیں تو انہیں خود آبنائے ہرمز جانا ہوگا اور اپنی حفاظت کرنی ہوگی، امریکا کا اس میں کوئی کردار نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران جنگ کا واحد مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا، اور یہ ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

Scroll to Top