مہنگائی 8 فیصد تک جانے کا امکان، وزارت خزانہ کی رپورٹ جاری

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے رواں ماہ مہنگائی کی شرح 7.5 سے 8.5 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے، جبکہ معیشت کے مختلف شعبوں میں ملے جلے رجحانات سامنے آئے ہیں۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ کے مطابق مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں ترسیلات زر میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ جولائی سے فروری کے دوران بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں نے 10.5 فیصد اضافے کے ساتھ 26.5 ارب ڈالر وطن بھیجے۔

دوسری جانب برآمدات کے شعبے میں کمی کا رجحان برقرار رہا، جہاں اسی عرصے میں برآمدات 5.4 فیصد کم ہو کر 20.7 ارب ڈالر رہیں۔ تاہم درآمدات میں کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 8.8 فیصد کم ہو کر 41.8 ارب ڈالر تک محدود رہیں۔

رپورٹ کے مطابق کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں بہتری آئی ہے اور یہ کم ہو کر صرف 70 کروڑ ڈالر رہ گیا، جو بیرونی کھاتوں میں استحکام کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس کے برعکس براہ راست بیرونی سرمایہ کاری میں 33 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کا حجم 1.19 ارب ڈالر رہا، جبکہ مجموعی بیرونی سرمایہ کاری 70 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک محدود رہی۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو دنیا نے تسلیم کیا، چین نے بھی ساتھ دیا، عطاتارڑ

محصولات کے شعبے میں مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 8 ماہ کے دوران ٹیکس ریونیو میں گزشتہ سال کے مقابلے 10.6 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 8 ہزار 122 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ اسی طرح نان ٹیکس ریونیو بھی 7.4 فیصد اضافے کے ساتھ 4 ہزار 41 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

مزید برآں جولائی تا فروری مالی خسارہ 64.7 ارب روپے رہا، جو حکومتی مالی نظم و ضبط کی عکاسی کرتا ہے۔

Scroll to Top