وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے رہائی فورس کی تشکیل کے معاملے پر جواب طلب کر لیا ہے، جبکہ چیف جسٹس نے اس حوالے سے سخت ریمارکس بھی دیے ہیں۔
وفاقی آئینی عدالت میں رہائی فورس کی تشکیل کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت درخواست گزار کے وکیل نے شواہد سے متعلق دستاویزات عدالت میں پیش کیں۔
وکیل درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بیان دیا تھا کہ ان کا مقابلہ ڈاکوؤں کے ساتھ ہے۔ انہوں نے عدالت کو تھریٹ سے متعلق مختلف آرٹیکلز کا حوالہ بھی دیا، جبکہ امن و امان سے متعلق کراچی ہائی کورٹ کے فیصلے کا ذکر بھی کیا۔
اس موقع پر جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ آیا کابینہ کی جانب سے ایسی کسی فورس کے قیام کی منظوری دی گئی ہے یا نہیں۔ اس پر وکیل نے بتایا کہ کابینہ نے ایسی کوئی اجازت نہیں دی۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ قانون کی خلاف ورزی نہ ہو۔
عدالت نے نوٹس جاری کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو ہدایت کی ہے کہ وہ رہائی فورس کی تشکیل کے حوالے سے 10 دن کے اندر جواب جمع کرائیں۔ چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ سزا یافتہ افراد کے لیے ایسی فورس نہیں بننی چاہیے۔





