خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا اقدام! اقلیتی برادری کے فنڈز 400 ملین تک پہنچا دیے گئے، یتیموں اور بیواؤں کیلئے ریکارڈ امداد

خیبرپختونخوا حکومت نے دہشتگردی سے متاثرہ اقلیتی برادری کے لیے انڈومنٹ فنڈ کی مد میں اہم اضافہ کرتے ہوئے فنڈ کی رقم 200 ملین روپے سے بڑھا کر 400 ملین روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی زیر صدارت ہونے والے ویڈیو لنک اجلاس میں کیا گیا، جس میں دہشتگرد حملوں سے متاثرہ افراد کے لیے امدادی پیکج میں نمایاں اضافہ کرنے کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں خاص طور پر 2013 کے آل سینٹس چرچ، کوہاٹی گیٹ پشاور حملے کے متاثرین کو رواں ہفتے مالی معاونت کے چیکس فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی۔ وزیر اعلیٰ نے بیواؤں کے لیے امدادی رقم 10 لاکھ سے بڑھا کر 20 لاکھ روپے کرنے، یتیموں کے لیے 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ روپے، معذور افراد کے لیے 5 لاکھ سے بڑھا کر 10 لاکھ روپے اور زخمیوں کے لیے ایک لاکھ سے بڑھا کر 6 لاکھ روپے کرنے کی منظوری دی۔

وزیر اعلیٰ نے اقلیتی برادری کے تحفظ اور فلاح کے لیے محکمہ اوقاف میں علیحدہ ڈائریکٹوریٹ کے قیام کی ہدایت دی اور رہائشی کالونیوں کی بحالی کے لیے ترقیاتی منصوبے کو آئندہ سالانہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کرنے کی بھی ہدایت جاری کی۔

وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر کہا کہ:”اقلیتی برادری کا تحفظ اور ان کی فلاح حکومت کی آئینی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ملکی ترقی میں ان کا کردار نہایت اہم اور قابل قدر ہے۔

یہ فیصلہ خیبرپختونخوا میں اقلیتی برادری کے لیے ایک تاریخی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو متاثرہ افراد کی زندگیوں میں سہارا اور تحفظ فراہم کرے گا۔

Scroll to Top