ایران کا جنگ بندی کی درخواست سے متعلق ٹرمپ کے بیان پر ردعمل

ایران نے جنگ بندی کی درخواست سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دعووں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی مفاہمت کی خبروں کی تردید کر دی ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ ایران کی جانب سے جنگ بندی کی کوئی درخواست نہیں کی گئی اور اس حوالے سے گردش کرنے والی خبریں بے بنیاد ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ نے سرکاری نیوز ایجنسی آئی آر آئی بی سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی طرف سے تجویز کردہ مبینہ پانچ نکاتی منصوبے کو بھی محض میڈیا کی قیاس آرائیاں قرار دیا۔

انہوں نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک جارحیت کرنے والوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا نہیں کیا جاتا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایک بار پھر یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی موجودہ نئی انتظامیہ پہلے کے مقابلے میں کم بنیاد پرست اور ذہین ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ جنگ بندی کا معاملہ صرف اسی صورت میں دیکھا جائے گا جب آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ایران ان شرائط پر پورا نہیں اترتا، اس پر حملے اور بمباری کا سلسلہ جاری رہے گا تاکہ اسے پتھر کے دور میں دھکیل دیا جائے۔ انہوں نے فوری طور پر جنگ بندی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ تہران کے لیے امریکی شرائط اپنی جگہ برقرار ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر نے ایران میں اقتدار کی تبدیلی یا “رجیم چینج” کے عمل کی تکمیل کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی انتظامیہ امریکا کے لیے قابل قبول ہے۔

Scroll to Top