ہفتے میں 3 چھٹیاں، طلبہ کے لیے موجیں ہی موجیں

خیبر پختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے صوبے بھر کے سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے ہفتے میں 4 روزہ ورکنگ ماڈل متعارف کروا دیا ہے۔

اس فیصلے کے تحت اب جمعہ اور ہفتہ کو اسکول بند رہیں گے، جبکہ تدریسی عمل پیر سے جمعرات تک جاری رہے گا۔

محکمہ تعلیم کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس نئے شیڈول کا اطلاق یکم اپریل 2026 سے فوری طور پر کیا جا رہا ہے۔

نوٹیفکیشن میں مزید واضح کیا گیا کہ اس نئے نظام کا مقصد تعلیمی عمل کو منظم بنانا اور اسکولوں کے وسائل کی بچت کو یقینی بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق 4 روزہ تعلیمی ہفتے کے دوران نصابی سرگرمیوں کو مکمل کرنے کے لیے یومیہ تدریسی اوقات میں معمولی اضافے کا امکان بھی ہے تاکہ طلبہ کے تعلیمی نقصان کو روکا جا سکے۔ محکمہ تعلیم نے تمام ضلعی افسران کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس نئے شیڈول پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

دوسری جانب پنجاب کے وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات نے اسکولوں میں 4 روزہ تعلیمی ہفتے کے حوالے سے نوٹیفکیشنز کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے ان خبروں کو ‘جعلی’ اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے والدین اور طلبہ سے کہا کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں۔

وزیرِ تعلیم نے اپنے بیان میں کہا کہ معاشی دباؤ کے باعث اسکولوں کی بندش کا سلسلہ اب ختم ہو چکا ہے اور تمام سرکاری و نجی اسکول اپنے معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : پاکستانی اور چینی بحریہ کی مشترکہ مشق سی گارڈین 4 کامیابی سے اختتام پذیر

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ کسی بھی غیر تصدیق شدہ نوٹیفکیشن پر یقین کرنے کے بجائے اسکول آئیں اور اپنی تعلیم پر توجہ مرکوز کریں۔

محکمہ تعلیم نے واضح کیا کہ آن لائن یا ہائبرڈ کلاسز کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ زیرِ غور نہیں ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب بھر میں تعلیمی ادارے 10 مارچ سے بند کیے گئے تھے، جس کا نوٹیفکیشن 9 مارچ کو جاری کیا گیا تھا۔ اس بندش میں عید الفطر کی چھٹیاں بھی شامل تھیں اور اس کا مقصد معاشی دباؤ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں کمی لانا تھا۔

31 مارچ کے بعد تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں تدریسی عمل مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے، اور والدین و اساتذہ نے اسکولوں کی واپسی کا خیر مقدم کیا ہے تاکہ طلبہ کے تعلیمی نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔

Scroll to Top