امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت 4 فیصد بڑھ کر 105 ڈالر 55 سینٹ فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ ڈبلیوٹی آئی کی قیمت 3 فیصد اضافے کے ساتھ 103 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قوم سے خطاب میں کہا کہ اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران ایران پر سخت حملے کیے جا سکتے ہیں اور ایران کے تیل کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو مشرق وسطیٰ کے تیل یا آبنائے ہرمز کی ضرورت نہیں، اور تنازع ختم ہونے پر آبنائے ہرمز قدرتی طور پر کھل جائے گا۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا اب تیل اور گیس کا سب سے بڑا پیدا کنندہ ہے، اور ان کی پالیسی سعودیہ اور روس کی مشترکہ پیداوار سے زیادہ تیل اور گیس پیدا کرنے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے امریکی عوام کو مشورہ دیا کہ تیل امریکا سے خریدیں اور آبنائے ہرمز تک رسائی حاصل کریں، کیونکہ ایران کے خلاف مشکل کام مکمل ہو چکا ہے اور ہرمز تک رسائی آسان ہوگی





