خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مالی دباؤ کے باعث ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بڑھنے یا نہ بڑھنے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔ حکومت ہفتہ وار شیڈول کے مطابق کل نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کے پاس مالی گنجائش محدود ہے، جس کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات موجود ہیں۔ اگر قیمتوں کا مکمل بوجھ عوام پر منتقل کیا گیا تو مہنگائی میں ایک نیا طوفان اٹھ سکتا ہے۔
وفاقی حکومت اضافی مالی وسائل پیدا کر کے عوام پر مکمل بوجھ ڈالنے سے روک سکتی ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے صوبوں سے بھی سبسڈی میں اپنا حصہ ڈالنے کی درخواست کی ہے، جبکہ لیوی کم کر کے بھی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت عام سبسڈی کی بجائے ٹارگٹڈ سبسڈی کا منصوبہ مرتب کر رہی ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل اور رکشہ کے لیے پیٹرول پر سبسڈی دی جا سکتی ہے۔ اس وقت وفاقی حکومت پیٹرول پر فی لیٹر 105 روپے 37 پیسے اور ہائی سپیڈ ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے لیوی وصول کر رہی ہے۔
حکومت مسلسل تین ہفتوں سے پیٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث ہائی سپیڈ ڈیزل پر 203 روپے 88 پیسے اور پیٹرول پر 95 روپے 59 پیسے فی لیٹر بوجھ وفاقی حکومت خود اٹھا رہی ہے۔ مجموعی طور پر حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھا کر 129 ارب روپے کا بوجھ برداشت کیا ہے۔
وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی اور بچتوں کے ذریعے اس بوجھ کو پورا کیا ہے اور اب تک ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 100 ارب روپے کی کمی کی جا چکی ہے۔
حالیہ ایک ماہ میں مٹی کے تیل کی فی لیٹر قیمت 252 روپے 87 پیسے تک مہنگی ہوئی ہے، پیٹرول میں 63 روپے فی لیٹر اضافہ، اور ہائی سپیڈ ڈیزل میں 60 روپے 16 پیسے اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پیٹرول کی قیمت: 28 فروری 2026 کو 258 روپے 17 پیسے فی لیٹر، موجودہ قیمت 321 روپے 17 پیسے فی لیٹر
ہائی سپیڈ ڈیزل: 28 فروری 2026 کو 275 روپے 70 پیسے، موجودہ قیمت 335 روپے 86 پیسے فی لیٹر
مٹی کا تیل: 28 فروری 2026 کو 180 روپے 53 پیسے، موجودہ قیمت 433 روپے 40 پیسے فی لیٹر
ماہرین کے مطابق حکومت کے فیصلے سے عوام کی روزمرہ زندگی پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اور نئے اعلان سے ملک میں مہنگائی کے طوفان کے امکانات روشن ہیں۔





