ماہر معاشی امور خاقان نجیب نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور ملک کی اقتصادی صورتحال کے پیش نظر یہ اقدام ضروری تھا۔
خاقان نجیب نے کہا کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں 1973 کے بعد سب سے بڑا جھٹکا آیا ہے اور پاکستان پر اس کے اثرات مختلف چینلز کے ذریعے مرتب ہو رہے ہیں۔
اگر قیمتوں میں بتدریج اضافہ نہ کیا جاتا تو آئی ایم ایف کے موجودہ پروگرام سے ہم آہنگی میں رکاوٹ پیدا ہوتی۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی سالانہ فروخت میں 19 فیصد اور ماہانہ فروخت میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 1.4 ملین ٹن کے برابر ہے اور یہ پچھلے سال کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
خاقان نجیب نے بلینکٹ سبسڈی (غیر امتیازی سبسڈی) کو سب سے زیادہ نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ یہ پالیسی 1800 سی سی گاڑی والے اور موٹر سائیکل والے دونوں کو ایک جیسی سبسڈی دیتی ہے، جس سے مالیاتی خسارہ بڑھتا ہے۔
انہوں نے دنیا کے دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں یومیہ بنیاد پر ایک ڈالر فی گیلن سے زیادہ تبدیل ہوتی ہیں، اور پاکستان میں بھی قیمتوں میں تاخیر کے بعد بتدریج اضافہ ہونا چاہیے تھا۔
خاقان نجیب کے مطابق عالمی حالات اور ملکی اقتصادی پالیسیوں کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ اضافہ ناگزیر اور درست اقدام ہے





