ایران کی بڑی کارروائی: بغداد اور اردن میں امریکی فوجی مراکز پر کامیاب ڈرون حملے

ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی بالادستی کو سخت دھچکا پہنچایا ہے، جب اس کی افواج نے عراق اور اردن میں قائم حساس امریکی فوجی تنصیبات کو کامیاب ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔

ان کارروائیوں میں نہ صرف امریکی سپلائی لائنز کو شدید نقصان پہنچا بلکہ جدید ترین جنگی طیارے بھی متاثر ہوئے، جس سے خطے میں امریکی فوجی طاقت کو بڑا جھٹکا لگا۔

عراقی سیکیورٹی ذرائع اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے حساس زون میں واقع امریکی سفارتی اور لاجسٹک سینٹر پر ایرانی ڈرونز نے درست نشانہ لگایا۔

اس حملے میں دو ڈرونز نے امریکی مرکز کے قلب میں ہدف کو تباہ کیا، جس کے نتیجے میں وہاں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ یہ مرکز امریکی فوج کی نقل و حمل اور سامان کی فراہمی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کے طور پر کام کرتا تھا، اور اس کا مفلوج ہونا ایک بڑی عسکری کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ایرانی فوج نے اپنے باضابطہ بیان میں مشرقی اردن میں واقع الازرق ایئر بیس پر ہونے والے کامیاب حملے کی بھی تصدیق کی۔ ایرانی ڈرونز نے اس بیس پر موجود امریکہ کے جدید ترین لڑاکا طیاروں کو نشانہ بنایا۔

الازرق بیس مغربی ایشیا میں امریکہ کا سب سے اہم اسٹریٹیجک مرکز مانا جاتا ہے، جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی اور بڑی تعداد میں امریکی عملہ تعینات ہوتا ہے۔

ایرانی سپاہیوں نے اس قلعہ نما بیس میں گھس کر کارروائی کی، جسے دفاعی ماہرین ایران کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت کی واضح مثال قرار دے رہے ہیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے ان حملوں کو “حق کی فتح” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کے بہادر سپاہیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : عوام پر مزید بوجھ، مٹی کے تیل کی قیمت میں بڑا اضافہ

انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملے ان قوتوں کے لیے پیغام ہیں جو خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہیں۔

عالمی سطح پر دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں نہ صرف امریکی فوج کی موجودگی کو متاثر کریں گی بلکہ خطے میں طاقت کے توازن میں ایران کی پوزیشن کو مضبوط کریں گی۔

مشرقی وسطیٰ کے دیگر ممالک میں بھی امریکی نواز قوتیں محتاط ہو گئی ہیں اور ان حملوں نے خطے میں عسکری کشیدگی کے نئے دور کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔

یہ کارروائیاں عراق اور اردن میں امریکی فوج کی نقل و حمل، ساز و سامان کی فراہمی اور اسٹریٹیجک منصوبہ بندی کے لیے اہم مراکز کو نشانہ بنا کر ایران کی عسکری حکمت عملی کی شدت کو ظاہر کرتی ہیں، اور عالمی سطح پر امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کے طور پر پیش کرتی ہیں۔

Scroll to Top