امریکی پالیسی جریدے ساؤتھ ایشین وائسز نے انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگرد تنظیموں کو محفوظ پناہ گاہیں میسر ہیں جو انہیں نہ صرف تحفظ فراہم کر رہی ہیں بلکہ دوبارہ منظم ہونے کے مواقع بھی دے رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغان طالبان اور کالعدم جسے بعض حلقوں میں فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے کے درمیان نظریاتی روابط اور ممکنہ گٹھ جوڑ بھی سامنے آیا ہے جس پر سکیورٹی ماہرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود یہ محفوظ ٹھکانے دہشتگردوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے، قیادت کو محفوظ رکھنے اور نئے جنگجو بھرتی کرنے میں مدد دے رہے ہیں، جس کے اثرات خطے کی سکیورٹی پر مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں پاکستان کے مؤقف کو بھی تقویت ملتی ہے جس کے مطابق اسلام آباد مسلسل سرحد پار دہشتگردی کے خطرے سے خبردار کرتا رہا ہے اور اس کے تدارک کے لیے بارڈر کنٹرول اور سفارتی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق افغان طالبان حکومت نہ صرف دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے بلکہ بعض صورتوں میں ان کی پشت پناہی کے الزامات کا بھی سامنا کر رہی ہے، جودوحہ معاہدے کی روح کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور افغانستان کی خفیہ سازش! پاکستان کے خلاف خطرناک ڈس انفارمیشن منصوبہ بے نقاب
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کی حالیہ جوابی کارروائیاں اسی تناظر میں کی گئی ہیں کیونکہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔
سیکیورٹی تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی نہ صرف علاقائی کشیدگی میں اضافہ کر رہی ہے بلکہ اس سے سفارتی تعلقات میں بھی تناؤ بڑھ رہا ہے جو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔





