مالی بحران اور غیر ترقیاتی اخراجات،خیبرپختونخوا کا 157 ارب روپے کا سرپلس بجٹ خطرے میں پڑ گیا

محمد اعجاز آفریدی

مالی بدحالی اور غیر ترقیاتی اخراجات کی وجہ سے خیبرپختونخوا حکومت کا 157 ارب روپے سرپلس بجٹ خطرے میں پڑ گیا ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی ادارے کی جانب سے صوبے کے لئے 220 ارب روپے سرپلس دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے رواں مالی سال 2025-26 ءکے بجٹ میں شامل 150 ارب روپے کے ترقیاتی منصوبوں پر کٹ لگانے کا خدشہ پیدا ہوگیاہے ۔

صوبائی حکومت مالی بحران کی ذمہ داری وفاق پر ڈال رہی ہے جبکہ صوبے نے 2013 ءسے 2025 ءتک اپنے صوبائی محاصل میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا۔

دستیاب شواہد کے مطابق صوبے کی مالی صورتحال اس لئے شدید دباؤ سے دوچار ہے کیونکہ آمدن کا بڑا حصہ وفاقی منتقلیوں سے جڑا ہوا ہے اور ان میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران وفاق سے ملنے والی رقوم میں مسلسل کمی ہو رہی ہے اور اب تک تقریباً 75 ارب روپے کم موصول ہو چکے ہیں جبکہ سال کے اختتام تک یہ کمی 90 سے 100 ارب روپے تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔

اسی طرح رواں مالی سال کے بجٹ میں ضم اضلاع کےلئے این ایف سی کی 3 فیصد شیئر کی مد میں 43 ارب روپے ملنے کا ہدف مقرر کیا گیاہے حالانکہ گزشتہ پانچ چھ سالوں کے دوران قبائلی اضلاع کےلئے این ایف سی کی مد میں ایک پائی بھی وصول نہیں ہوئی ہے جبکہ اے آئی پی کی مد میں بھی وفاق کی جانب سے صوبے کو تاحال پیسے موصول نہیں ہوئے ہیں ۔

محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا کے ذرائع کا کہنا ہے کہ مارچ میں ملنے والی قسط بھی 30 سے 35 ارب روپے کم رہی جبکہ پاک افغان تجارت سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی کمی آئی ہے۔مشیر خزانہ خیبرپختونخوا ملزمل اسلم نے دعوی کیاہے کہ پاک افغان بارڈر کی بندش سے خیبرپختونخوا حکومت کے ریونیو میں 9 ارب روپے کی کمی آئی ہے ۔

محکمہ خزانہ کے مطابق اگر وفاق سے 100 ارب روپے تک کمی برقرار رہتی ہے تو 157 ارب روپے کے سرپلس میں سے بڑی رقم کم ہو کر تقریباً 57 ارب روپے رہ جائے گی، جبکہ قبائلی اضلاع کے 43 ارب روپے بھی ملنے کا امکان نہیں ہے جس سے سرپلس بجٹ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا اور بجٹ خسارے میں جانے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے تاہم آئی ایم ایف کی شرط کے رو سے خیبرپختونخو احکومت کو اپنے ترقیاتی پراجیکٹ پر بھاری کٹ لگانے کی تیاری کررہے ہیں جس کے اعداد شمار باقاعدہ ری وائزڈ بجٹ میں سامنے آجائینگے جس کے لئے اجلاسوں کا سلسلہ جاری ہے۔

محکمہ خزانہ کے ایک آفیسر نے بتایاکہ رواں مالی سال کے دوران خیبرپختونخوا حکومت نے غیر ترقیاتی منصوبوں پر پیسے خرچ کئے جس میں رمضان پیکج کے لئے 12 ارب روپے ،پنجاب سے مقابلے کی ریس میں صاف ستھرا پختونخوا کے لئے 12 ہزار افراد کی بھرتی کی گئی جو خزانہ پر بوجھ بن گیاہے۔

موجودہ جنگی حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد موٹر سائیکل سوار کے لئے ساڑھے تین ارب روپے کی ریلیف کا اعلان کیاگیا، اسی طرح سکولوں کے لئے پی ٹی سی فنڈز 13 ہزار روپے سے بڑھا کر 29 ہزار روپے کردیا گیاہے
،ا س طرح صوبے کے غیر ترقیاتی اخراجات میں رواں مالی سال کے دوران 17 سے 18 ارب روپے تک مزید اضافہ ہوگیاہے۔

ذرائع کے مطابق صوبے کے مجموعی ریونیو کا تقریباً 93 سے 94 فیصد حصہ وفاقی فنڈز پر مشتمل ہے، اور یہی انحصار سرپلس بجٹ کے لئے سب سے بڑا خطرہ بن رہا ہے۔ اگر وفاقی محاصل میں کمی آتی ہے تو اس کا براہ راست اثر صوبے کے حصے پر پڑتا ہے، جس سے بجٹ کا توازن بگڑ جاتا ہے۔

ادھر2013-14 میں خیبرپختونخوا کی مجموعی صوبائی ریونیوتقریباً 16 ارب روپے، 2014-15 میں 19 ارب، 2015-16 میں 24 ارب، 2016-17 میں 30 ارب، 2017-18 میں 38 ارب، 2018-19 میں 48 ارب، 2019-20 میں 58 ارب، 2020-21 میں 68 ارب، 2021-22 میں 85 ارب، 2022-23 میں 100 ارب اور 2023-24 میں تقریباً 115 ارب روپے تک پہنچا جبکہ رواں مالی سال کے دوران بھی خیبرپختونخوا حکومت کو صوبائی محاصل جمع کرنے میں مشکلات کاسامنا ہے اور قومی امکان ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کو رواں مالی سال کے لئے مقررہ ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑے۔

اعداد و شمار کے مطابق صوبہ اپنی آمدن بڑھانے میں خاطر خواہ کامیاب نہیں ہو سکا اور اب بھی اس کا زیادہ تر انحصار وفاقی وسائل پر ہے،صوبائی ریونیو 2013-14 میں تقریباً 16 ارب روپے تھا جو بتدریج بڑھ کر 2023-24 میں تقریباً 115 ارب روپے تک پہنچا، تاہم یہ اضافہ صوبے کی مجموعی مالی ضروریات کے مقابلے میں محدود تصور کیا جا رہا ہے۔

دستیاب شواہد کے مطابق اگرچہ بجٹ کاغذات میں سرپلس بجٹ دکھایا گیا تھا، تاہم عملی طور پر یہ وفاقی رقوم کی بروقت اور مکمل ادائیگی سے مشروط ہے۔ موجودہ صورتحال میں جب وفاق سے کم فنڈز مل رہے ہیں اور صوبائی ریونیو بھی مطلوبہ رفتار سے نہیں بڑھ رہا، تو سرپلس بجٹ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے جس کے بعد خدشہ پیدا ہوگیاہے کہ رواں مالی سال کے نظر ثانی بجٹ کے دوران خیبرپختونخوا حکومت سالانہ ترقیاتی پروگرام پر 150 ارب روپے تک کٹ لگا سکتی ہے بصورت دیگر رواں مالی سال کے دوران خیبرپختونخوا کو سرپلس بجٹ کی بجائے خسارے کا سامنا ہوسکتاہے۔

اس سلسلے میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے صوبے کو بری ذمہ قراردیاہے اور صوبے کی مالی بحران کی ذمہ داری وفاق پر ڈال دی ہے ۔

ان کاکہناہے کہ وفاق کو اس وقت ٹیکس کولیکشن میں خسارے کا سامناہے جس کا براہ راست اثر صوبائی مالیاتی نظام پر پڑتاہے جس کی وجہ سے خیبرپختونخوا کا سرپلس بجٹ خطرے میں پڑ گیاہے۔

Scroll to Top