عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ ملک میں عوام مہنگائی کے شدید طوفان کا شکار ہیں، جبکہ حکومت غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل اور ڈرامہ بازیوں میں مصروف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے اچانک 137 روپے فی لیٹر اضافہ کر کے عوام پر بھاری بوجھ ڈالا، اور بعد ازاں 80 روپے کمی کا اعلان کر کے اسے ریلیف کے طور پر پیش کیا، حالانکہ عوام اب بھی فی لیٹر 80 روپے اضافی بوجھ برداشت کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ عوامی نفسیات کے ساتھ کھیل ہے۔
ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ کے مطابق پاکستان میں پٹرول کی قیمت تقریباً 298 روپے فی لیٹر ہونی چاہیے تھی، مگر حکومت نے اسے پہلے 458 اور اب 378 روپے مقرر کر کے عوام پر مالی دباؤ بڑھایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈیزل کی قیمت 520 روپے فی لیٹر تک پہنچنے سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ مہنگائی کا براہِ راست تعلق ڈیزل کی قیمتوں سے ہے، اس حوالے سے حکومت کی واضح پالیسی کیا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ متوسط طبقہ شدید پریشانی کا شکار ہے اور لوگوں کو یہ فکر لاحق ہے کہ وہ آنے والا مہینہ کیسے گزاریں گے۔
ایمل ولی خان نے الزام عائد کیا کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرتے ہوئے عام آدمی سے جینے کا حق چھین رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام ہی مشکلات کا شکار ہوں گے تو قرضوں کا بوجھ کس کے لیے اٹھایا جا رہا ہے؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت وقتی اعلانات اور مبینہ طور پر گمراہ کن اقدامات کے بجائے عوام کو حقیقی اور مستقل ریلیف فراہم کرے، کیونکہ ملک کو سنجیدہ، ذمہ دار اور وژن رکھنے والی حکمرانی کی ضرورت ہے۔





