تہران کی جانب سے ایک بڑا بیان سامنے آیا ہے جس نے پاکستان مخالف تمام پروپیگنڈے کو زمین بوس کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے کھلے الفاظ میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف کیا ہے جس کے بعد اب یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے جھوٹ کون اور کیوں بول رہا تھا۔
کئی دنوں سے یہ بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ پاکستان خطے کی صورتحال میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہا یا اسلام آباد غیر متعلق ہو کر سائیڈ لائن پر جا چکا ہے، مگر آج وہ پورا بیانیہ مکمل طور پر بکھر گیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان محض کوئی رائے نہیں بلکہ تہران کی جانب سے براہِ راست تصدیق ہے کہ پاکستان مکمل طور پر متحرک اور قابلِ اعتماد ہے اور یہی وہ ملک ہے جس سے حل کے لیے رجوع کیا جا رہا ہے۔
عباس عراقچی کے پیغام کی سفارتی زبان میں جھلکنے والی شکرگزاری، احترام اور اسلام آباد آنے کی آمادگی واضح کرتی ہے کہ یہ انداز کسی ایسے ملک کے لیے نہیں ہوتا جو معاملے میں شامل نہ ہو بلکہ یہ اس ملک کے لیے ہے جو فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔
اس صورتحال سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ جو لوگ پاکستان کے کردار کو کم کر کے دکھا رہے تھے وہ لاعلم نہیں تھے بلکہ دانستہ طور پر ایک گمراہ کن بیانیہ پھیلا رہے تھے۔
پاکستان ایک بار پھر وہی کر رہا ہے جو ہمیشہ سے اس کا شیوہ رہا ہے یعنی پسِ پردہ مؤثر سفارت کاری کے ذریعے خطے کو مستحکم کرنا اور کشیدگی میں کمی لانا، جبکہ اس کے برعکس کچھ عناصر صرف شور اور ابہام پیدا کرنے میں مصروف تھے۔
آج ایک منفی بیانیہ اپنی موت آپ مر چکا ہے اور یہ حقیقت پوری قوت سے سامنے آ گئی ہے کہ پاکستان سائیڈ لائن پر نہیں بلکہ فیصلے کی میز پر موجود ہے۔





