دنیا کی سب سے بڑی کاروباری کمپنی گولڈ مین ساکس نے سونے کی قیمت کے بارے میں اپنی پیشگوئی جاری کر دی ہے، جس کے مطابق مستقبل میں سونے کی نرخوں میں مزید اضافہ کے امکانات زیادہ ہیں۔
کمپنی نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود سونے کے نرخ میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی سب سے بڑی ماہانہ کمی دیکھنے میں آئی، تاہم اس کے باوجود طویل مدتی سرمایہ کار مارکیٹ میں موجود ہیں اور سونے کی خریداری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
گولڈ مین ساکس نے سال کے آخر تک سونے کی قیمت 5,400 ڈالر فی اونس رہنے کی پیشگوئی برقرار رکھی ہے۔ یکم اپریل تک سونے کی قیمت تقریباً 4,567 سے 4,769 ڈالر فی اونس کے درمیان رہی، جو جنوری کے آخر میں بننے والی تقریباً 5,600 ڈالر کی بلند ترین سطح سے کافی کم ہے۔
کمپنی کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے سرمایہ کار سونے میں سرمایہ کاری جاری رکھ سکتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اضافہ کے امکانات مزید بڑھ جائیں گے۔ ماہرین نے کہا کہ ایسے سرمایہ کار جو طویل مدتی خطرات سے بچنے کے لیے سونا خریدتے ہیں، وہ اسے فروخت نہیں کر رہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں بھی سونے کی قیمتوں میں استحکام رہا اور مارکیٹ میں کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں ہوئی۔
یہ پیشگوئی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ سونے کی مارکیٹ مستقبل میں سنجیدہ اتار چڑھاؤ کا سامنا کر سکتی ہے، جس پر سرمایہ کاروں کی نظر مرکوز ہے۔





