شہید بچوں اور خواتین کی نماز جنازہ، وزیراعلیٰ کی غیر حاضری نے دکھ اور سوالیہ نشان چھوڑ دیا

شہید بچوں اور خواتین کی نماز جنازہ، وزیراعلیٰ کی غیر حاضری نے دکھ اور سوالیہ نشان چھوڑ دیا

بنوں میں حالیہ سانحے میں شہید ہونے والی خواتین، بچوں اور دیگر افراد کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی، تاہم وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی غیر موجودگی نے عوام اور متاثرہ خاندانوں میں شدید دکھ اور غصہ پیدا کر دیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق، بنوں کے عوام اور متاثرہ خاندانوں نے اس بات پر سخت تنقید کی کہ وزیراعلیٰ اپنے صوبے کے اس المناک سانحے کے بعد بھی نہ تو جائے وقوعہ پہنچے اور نہ ہی نماز جنازہ میں شرکت کی، جبکہ وہ باجوڑ میں اپنے سیاسی جلسوں میں مصروف ہیں۔

عوام نے سوال اٹھایا کہ کیا وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے شہریوں کے دکھ اور مصائب کے بارے میں سنجیدہ ہیں؟ متاثرین کے اہل خانہ اور مقامی شہریوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اعلیٰ حکومتی عہدیدار اپنے عوام کے ساتھ دکھ کے لمحات میں موجود نہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف عوام کا اعتماد کمزور ہوا ہے بلکہ وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی نے ان کے عوامی اور انسانی رویے پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ شہید خاندانوں کو انصاف اور تسلی دینے کے بجائے وزیراعلیٰ کا سیاسی جلسوں میں مصروف رہنا ایک تشویشناک رویہ ہے، اور یہ صورتحال صوبائی حکومت کے عوامی رویے کے بارے میں شدید خدشات پیدا کر رہی ہے۔

Scroll to Top