امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران بات چیت میں دلچسپی رکھتا ہے اور ان کا خیال ہے کہ پیر تک کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔
اتوار کو فاکس نیوز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے تصدیق کی کہ امریکا نے مظاہرین تک ہتھیار پہنچانے کی کوشش کی تاہم وہ ہتھیار کُردوں کے پاس رہ گئے۔
فاکس نیوز کے صحافی ٹرے یِنگسٹ نے بتایا کہ انہوں نے صدر ٹرمپ سے تقریباً 15 منٹ بات کی جس میں ایران کے ساتھ مذاکرات کی پسِ پردہ کوششوں کا ذکر بھی ہوا۔
🚨 BREAKING: @TreyYingst details his phone call with President Trump this morning about the ongoing negotiations with Iran.
“The president tells me, ‘If they don’t make a deal, and fast, I’m considering blowing everything up and taking over the oil.'” | @foxandfriends pic.twitter.com/Si0GDQUOnH
— Fox News (@FoxNews) April 5, 2026
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے وہ افراد جو مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں اور ڈیل چاہتے ہیں انہیں نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، ان کا کہنا تھا کہ پیر تک کوئی معاہدہ متوقع ہے اور اگر ایسا نہ ہوا تو امریکا سخت کارروائی کرے گا، جس میں ایران کے پل، بجلی کے پلانٹس اور تیل کی تنصیبات بھی نشانہ بن سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے امریکی صدر کو سخت تنبیہ جاری کردی
صحافی کے مطابق صدر ٹرمپ نے ایران میں احتجاجات کے دوران امریکا کے خفیہ اقدامات کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں، انہوں نے کہا کہ امریکا نے کُردوں کے ذریعے مظاہروں کو بھڑکانے اور پرتشدد بنانے کے لیے بڑی تعداد میں ہتھیار ایران بھیجے لیکن غالباً کُردوں نے وہ ہتھیار اپنے پاس رکھ لیے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سماجی پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کو دھمکی دی کہ اگر آبنائے ہرمز فوری طور پر کھولنے میں ناکامی ہوئی تو منگل کو ایران کے پلوں اور بجلی کے پلانٹس پر شدید حملہ کیا جائے گا۔





