پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عرفان سلیم نے کہا ہے کہ سینیٹ میں مراد سعید کی خالی نشست پر ٹکٹ کے حوالے سے وہ کسی ذاتی خواہش یا مطالبے کے قائل نہیں بلکہ پارٹی میں اجتماعی فیصلوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
پاکستان تحریک انصاف پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 8 فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد ہونے والے سینیٹ انتخابات میں انہوں نے کبھی سینیٹر بننے کا مطالبہ نہیں کیا، نہ ہی بعد میں ہونے والے دو ضمنی سینیٹ انتخابات میں ٹکٹ مانگا اور نہ ہی اب اس حوالے سے کوئی خواہش رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ کارکنوں کی آواز کے ذریعے سیاسی جماعتوں میں انفرادیت کے بجائے اجماعیت کو فروغ مل رہا ہے، ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں پارلیمانی بورڈ کا قیام ضروری ہے تاکہ فیصلے کسی ایک فرد کے بجائے مشاورت سے کیے جائیں۔
عرفان سلیم نے کہا کہ پارلیمانی بورڈ سیاسی جماعتوں کا ایک اہم حصہ اور باقاعدہ طریقہ کار ہے جس کا وہ خیر مقدم کرتے ہیں، انہوں نے واضح کیا کہ انہیں کسی عہدے کی خواہش نہیں کیونکہ موجودہ نظام میں عہدہ ملنے یا نہ ملنے سے ان کے مؤقف پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے انہیں تیاری کرنے کا کہا تاہم وہ پارٹی فیصلے کے بغیر کوئی قدم نہیں اٹھائیں گے، پارٹی نظم و ضبط کا پابند ہوں اور جب تک پارٹی فیصلہ نہیں کرتی، میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: مراد سعید کی خالی سینیٹ نشست کے لیے 9 رکنی پارلیمانی بورڈ تشکیل
انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2018 میں جب وہ ٹاؤن صدر تھے تو پارٹی چیئرمین عمران خان نے انہیں الیکشن لڑنے کا کہا تاہم انہوں نے انکار کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے تو اس وقت نشست حاصل کر سکتے تھے، لیکن وہ عہدوں کے خواہشمند نہیں رہے۔
عرفان سلیم نے کہا کہ اگر ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو اس کا آغاز اپنی جماعت کے اندر سے ہونا چاہیے، جس طرح ہم کہتے ہیں کہ ملک ایک فرد واحد نہیں چلا سکتا، اسی طرح پارٹی معاملات بھی ایک شخص کے ہاتھ میں نہیں ہونے چاہئیں۔





