پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک جامع جنگ بندی فریم ورک دونوں ممالک کے ساتھ شیئر کر دیا ہے، جسے ’اسلام آباد اکارڈ‘ کا نام دیا جا رہا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارےرائٹرز کے مطابق یہ فریم ورک دو مراحل پر مشتمل ہے۔ پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی جبکہ دوسرے مرحلے میں ایک جامع اور مستقل امن معاہدہ شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے گزشتہ رات اس پیش رفت کے لیے اہم سفارتی کردار ادا کیا اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس،امریکی صدر کے مشیر اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مسلسل رابطے میں رہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ ’اسلام آباد اکارڈ‘ کے تحت ابتدائی طور پر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے گا، جبکہ 15 سے 20 روز کے اندر جنگ بندی کے لیے ایک جامع فریم ورک کو حتمی شکل دی جائے گی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے پر آج اتفاق رائے ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب سینئر ایرانی حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز انہیں موصول ہو چکی ہے اور اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی فیصلے کے لیے کسی بھی قسم کی ڈیڈ لائن یا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
پاکستانی حکام نے اس حوالے سے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے کسی بھی مجوزہ فریم ورک کی باضابطہ تصدیق یا تردید سے گریز کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرانی نے کہا کہ اگرچہ مختلف رپورٹس سامنے آ رہی ہیں، تاہم پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ خطے میں امن کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر ’اسلام آباد اکارڈ‘ پر اتفاق ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔





