واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ ایران کو ایک رات میں تباہ و برباد کیا جا سکتا ہے، اور شاید وہ رات آج ہو۔
صدر ٹرمپ نے ایران میں کامیاب ریسکیو آپریشن، آبنائے ہرمز کی ڈیڈ لائن، اور امریکی فوج کے خطرناک آپریشنز کی تفصیلات میڈیا کے سامنے بیان کیں۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران میں سب سے بڑے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس میں 200 افراد کو صرف ایک شخص کو بچانے کے لیے بھیجا گیا۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے نہ صرف اپنے اہداف حاصل کیے بلکہ ایک ملک کو مکمل طور پر ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اور یہ کارروائی “کل” بھی ہو سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس مشکل مشن میں کسی ایک فوجی کو پیچھے نہیں چھوڑا گیا اور ایران کی سرزمین سے امریکی پائلٹ کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : اوورسیز پاکستانیوں کے لیے بڑی خبر، خیبر پختونخوا میں خصوصی عدالتیں قائم
ایف-15 جہاز کے ذریعے کرنل کو واپس لایا گیا، جبکہ ایرانی افواج زخمی کرنل کو تلاش کر رہی تھیں۔ صدر نے کہا کہ کرنل نے اپنے زخموں کی مرہم پٹی کی اور پہاڑ کی بلندی پر چڑھتا رہا، جبکہ امریکی طیارے بھی اس علاقے میں سرگرم تھے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ ریسکیو آپریشن میں 155 طیارے اور 200 فوجی حصہ لے رہے تھے، جس میں 48 ری فیولنگ ٹینکرز اور 13 ریسکیو ایئرکرافٹ شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ اہم سامان رکھنے والے دو بڑے طیارے دشمن کے ہاتھ نہ لگیں اس لیے خود تباہ کیے گئے، جبکہ فوجیوں کی جانیں محفوظ رہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں 30 دن کے دوران 10 ہزار سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا، اور ریسکیو آپریشن میں امریکی فوج کی مہارت اور درستگی عالمی معیار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں پائلٹس نے پیرا شوٹ کے ذریعے چھلانگ لگائی اور بحفاظت ایران میں لینڈ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : وفاقی حکومت کا ملک بھر کے بازاروں اور شاپنگ مالز بند کرنے کا فیصلہ، باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری
انہوں نے ایران کے حوالے سے کہا کہ منگل کی دی گئی ڈیڈ لائن حتمی ہے، اور اگر آبنائے ہرمز نہیں کھلی تو ایران کا کوئی پل باقی نہیں بچے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اب ایران کے پاس صرف کچھ میزائل اور ڈرونز باقی ہیں، اور امریکی تجاویز کے مطابق ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
صدر نے یہ بھی کہا کہ امریکا اب ایران کے ساتھ بات چیت میں دانشمند افراد سے رابطہ کر رہا ہے، اور ضرورت پڑنے پر ایران کے تیل پر بھی قبضہ کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ آپریشن ایک فوجی تہوار کی طرح کامیاب رہا، جس میں امریکی فوج نے اپنی مہارت، جدید ہتھیار اور عالمی سطح کی ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا۔





