پولیس اسٹیشنوں میں کھڑی گاڑیوں کا معاملہ، تفصیلات طلب کر لی گئیں

پشاور: نیشنل انفلوئنسرز نے خیبر پختونخوا میں پولیس اسٹیشنوں میں طویل عرصے سے زیر تحویل گاڑیوں کے مسئلے پر نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے حالیہ اقدام کو سراہا ہے۔

کمیشن نے صوبے کے تمام ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز کو خطوط جاری کرتے ہوئے پولیس تحویل میں موجود گاڑیوں کے بارے میں تفصیلی معلومات طلب کی ہیں۔

اس میں زیر تحویل گاڑیوں کی کل تعداد، ان کی تحویل کی قانونی بنیاد، تحویل کی مدت، گاڑیوں کی دیکھ بھال کے لیے اٹھائے گئے اقدامات، اور ان کی بروقت رہائی یا قانونی طریقہ کار کے مطابق تصرف کے بارے میں معلومات شامل ہیں۔

نیشنل انفلوئنسرز کے مطابق پولیس اسٹیشنوں میں گاڑیوں کا طویل عرصے تک کھڑا رہنا ایک سنجیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔

متعدد گاڑیاں مہینوں بلکہ بعض اوقات برسوں تک پولیس اسٹیشنوں میں کھڑی رہتی ہیں جس کے باعث موسم کے اثرات اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہو جاتی ہے۔

ادارے نے کہا کہ بہت سے شہریوں کے لیے یہ گاڑیاں ان کی کمائی اور معاش کا واحد ذریعہ ہوتی ہیں، لہٰذا ان کی غیر ضروری یا طویل تحویل شہریوں کو شدید معاشی نقصان پہنچاتی ہے اور ملک میں پراپرٹی رائٹس اور قانونی تقاضوں کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : پی آئی اے نے بین الاقوامی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دیں

نیشنل انفلوئنسرز نے اس اہم عوامی مسئلے کو اٹھانے اور صوبے بھر سے معلومات اکٹھی کرنے کے اقدام پر نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو سراہا۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس عمل سے مسئلے کی اصل نوعیت اور وسعت کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور مستقبل میں پالیسی و انتظامی اصلاحات کی راہ ہموار ہو گی۔

نیشنل انفلوئنسرز نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ پاکستان میں قانون کی حکمرانی، پراپرٹی رائٹس کے تحفظ اور جوابدہ حکمرانی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

Scroll to Top