خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کی 14 سالہ کارکردگی پر عوام کی تشویش بڑھ گئی ہے، جہاں شہری بڑے دعووں کے باوجود بنیادی سہولیات کے فقدان اور سیلاب زدہ حالات سے پریشان ہیں۔
ذرائع کے مطابق پشاور میں حالیہ بارشوں کے بعد شہر کی مختلف سڑکیں پانی میں ڈوب گئی ہیں، جس سے شہریوں کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ خاص طور پر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ارد گرد بارش کے پانی نے مریضوں اور اہل خانہ کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں، جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی نکاسی آب کا نظام ناکافی ہونے کے باعث گزرنا دشوار ہو گیا ہے۔
صوبائی دارالحکومت میں شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 14 سال کے دوران حکومت نے عوامی فلاح اور بنیادی ڈھانچے میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے۔ شہریوں کی شکایات میں سڑکوں کی خراب حالت، سیلابی پانی کی نکاسی میں ناکامی، اور ہنگامی صورتحال میں مناسب انتظامات نہ ہونا شامل ہیں۔
پی ٹی آئی کے دور میں بڑے بڑے دعوے کیے گئے، لیکن عملی طور پر عوام کو ریلیف دینے میں ناکامی دیکھی گئی۔ اس دوران، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مختلف دوروں میں مصروف نظر آئے، جس پر شہریوں نے تنقید کی کہ وہ زمینی حقائق سے کٹ کر محض رسمی دورے کر رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، موسمی تبدیلیوں اور غیر متوقع بارشوں کے پیش نظر حکومتی اداروں کو شہریوں کی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری پر زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ موجودہ صورتحال یہ واضح کرتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں طویل عرصے تک حکومت ہونے کے باوجود شہری مسائل حل نہیں ہوئے اور عوام کو روزمرہ زندگی میں مشکلات کا سامنا ہے۔
شہری اور تجزیہ کار توقع کر رہے ہیں کہ آنے والے دنوں میں حکومت سیلاب زدہ علاقوں کی فوری صفائی، نکاسی آب کے نظام کی بحالی اور شہری سہولیات میں بہتری کے لیے عملی اقدامات کرے گی تاکہ عوام پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کیا جا سکے۔





