پشاور: گورنر ہاؤس خیبرپختونخوا میں ریاست اور سماج مکالمہ کے عنوان سے ایک روزہ کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت اور اختتامی خطاب گورنر کے پی فیصل کریم کنڈی نے کیا۔
کانفرنس میں سیاسی، مذہبی اور سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات کے علاوہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ریاست اور عوام کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرنے کے لیے باقاعدہ مکالمہ ناگزیر ہے، جبکہ داخلی اتحاد کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
تقریب کے دوران عالمی اور علاقائی حالات، خصوصاً بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تناظر میں ریاست اور سماج کے درمیان مضبوط روابط پر زور دیا گیا۔ نوجوانوں اور سماجی رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ قومی یکجہتی کے بغیر بیرونی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ ممکن نہیں۔
کانفرنس میں قبائلی اضلاع سے آئے نوجوانوں، تعلیمی ماہرین، سول سوسائٹی کے نمائندوں اور تھنک ٹینکس کے اراکین نے بھی بھرپور شرکت کی۔ منتظمین میں انٹرنیشنل ریسرچ کونسل اور پاکستان ادارہ برائے انسداد غربت کے سربراہان بھی شامل تھے۔
شرکاء نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے حل کے لیے پاکستانی قیادت کی سفارتی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں نوجوانوں اور ریاستی اداروں کی قربانیوں کو سراہا گیا۔
یہ بھی پڑھیں : پاک بحریہ کے سربراہ سے ترک ڈپٹی چیف آف جنرل اسٹاف کی ملاقات، دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال
کانفرنس کے مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آئین کے مطابق صوبوں کو ان کے حقوق دینے سے سیاسی و سماجی بے چینی میں کمی لائی جا سکتی ہے۔
تقریب سے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی، سابق مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف، مذہبی سکالر اسرار مدنی سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔
اختتامی کلمات میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست اور عوام کے درمیان مؤثر رابطہ اور مکالمہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ گورنر ہاؤس ایسے تمام مکالموں کے لیے دستیاب رہے گا۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ افواہوں اور پروپیگنڈے سے گریز کرتے ہوئے مستند معلومات پر انحصار کریں اور سوشل میڈیا کو تقسیم کے بجائے قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے استعمال کریں۔





