پاکستان کے وزیراعظم محمد شہباز شریف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں 15 روزہ جنگ بندی کی تجویز قبول کرلی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ پاکستان کی درخواست اور مذاکرات کی بنیاد پر، ایران کے آبنائے ہرمز کو مکمل، فوری اور محفوظ کھولنے پر رضامندی کے عوض ایران پر حملے اور بمباری کو دو ہفتوں کے لیے روکنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ امریکہ پہلے ہی تمام عسکری اہداف حاصل کرچکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل مدتی امن اور مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے لیے حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران سے موصولہ 10 نکاتی امن تجویز مذاکرات کے لیے ایک قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے اور گزشتہ متنازع امور پر دونوں اطراف نے اتفاق کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب، ٹرمپ نے جنگ بندی میں 2ہفتے کی توسیع کردی
نیویارک ٹائمز کے مطابق ایران نے امریکہ کو دس نکاتی امن تجویز پیش کی ہے، جس میں اسرائیل کی حزب اللہ پر کارروائیوں کے خاتمے، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز کی حفاظت جیسے نکات شامل ہیں، جو مستقبل کے مذاکرات کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیا اور اس کی کوششیں مذاکرات کو آگے بڑھانے میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ دو ہفتوں کا وقفہ معاہدے کو حتمی شکل دینے اور مستقل امن معاہدے تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے، جو ایران اور امریکہ کے تعلقات میں دیرپا استحکام لا سکتا ہے۔





