پاکستان کی کامیاب سفارت کاری! خطے میں امن کیلئے کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری! خطے میں امن کیلئے کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا گیا

امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے، اور اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ عالمی برادری نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو بھی سراہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور دیگر ممالک کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ جنگ بندی معاہدے کی شرائط پر مکمل عمل کریں۔ ان کے ترجمان نے کہا کہ معاہدے پر پابندی برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔

آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانی نے جنگ بندی کو ’مثبت خبر‘ قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی میں کمی اور تنازع کے خاتمے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے ایران میں سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے سابق بیانات پر بھی تنقید کی۔

جاپان کے چیف کابینہ سیکریٹری منورو کہارا نے کہا کہ اب سب سے اہم بات یہ ہے کہ کشیدگی حقیقی طور پر کم ہو، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنایا جائے۔ عراق اور مصر کی وزارت خارجہ نے بھی اس پیش رفت کو خطے میں استحکام اور سیکیورٹی کے لیے اہم قرار دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، دو ہفتوں کی جنگ بندی ابتدائی قدم ہے، لیکن خطے میں دیرپا امن کے لیے فریقین کو سنجیدگی سے مذاکرات جاری رکھنے ہوں گے۔ ملائیشین وزیراعظم انور ابراہیم نے زور دیا کہ ایران کی 10 نکاتی تجاویز کو عملی شکل دے کر جامع امن معاہدے میں تبدیل کیا جائے، جو نہ صرف ایران بلکہ عراق، لبنان اور یمن کے لیے بھی استحکام کا باعث بنے۔

انڈونیشیا اور جرمن وزیر خارجہ نے بھی فریقین سے علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سفارتکاری کا احترام کرنے کی اپیل کی، جبکہ جرمن حکومت نے پاکستان کی ثالثی کو سراہا اور جنگ بندی کے مکمل نفاذ کے لیے مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا۔

عالمی رہنماؤں نے خاص طور پر پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کی ثالثی کو کشیدگی کم کرنے میں مددگار قرار دیا۔ عمان نے بھی جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو عالمی امن کے لیے اہم قرار دیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق، اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں دیرینہ مسائل کے حل اور باہمی تعلقات کی بحالی پر توجہ دی جائے گی، اور عالمی برادری کو امید ہے کہ یہ اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کریں گے بلکہ دنیا بھر میں امن کی نئی راہیں بھی ہموار کریں گے۔

Scroll to Top