اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور سفارتی کامیابی کے بعد پاکستان میں سیاسی درجہ حرارت میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو سراہا اور ملکی مفاد میں مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں پاکستان کے کردار کو سراہنا لازم ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن اس وقت وہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر ممکن تعاون کریں گے۔
اپوزیشن رہنما نے ایوان میں پاکستان زندہ باد اورپاک فوج زندہ باد کے نعرے بھی لگائے، جس پر ایوان میں ڈیسک بجنے کی آواز سے گونج پیدا ہوئی۔
محمود خان اچکزئی نے تمام سیاسی قیادت کو ایک میز پر بیٹھنے کی دعوت دی اور زور دیا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت تمام مقبول رہنماؤں سے بات چیت کی جائے تاکہ ملک کو سیاسی استحکام ملے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان وسائل سے مالا مال ہے اور اسے شخصی انا کے بجائے قومی مفادات کو ترجیح دے کر خود انحصاری کی طرف بڑھنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کی پرانی 10 نکاتی تجویز رد، نئی تجاویز پر بات چیت میں بڑا موڑ سامنے آ گیا
سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے اے این پی کے صدر ایمل ولی خان نے موجودہ پیش رفت کو پاکستان کے لیے تاریخی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل مبارکباد کے مستحق ہیں۔
ایمل ولی خان نے مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کروانے پر وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کو ثابت کر دیا کہ بڑے سے بڑے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن حکومت کے اس عالمی کردار پر فخر محسوس کر رہی ہے اور پاکستان کا امن اور بھائی چارے کا پیغام دنیا بھر میں پہنچ رہا ہے۔ا





