گردوں کی خرابی کی ابتدائی نشانیاں، جاننا ضروری

اسلام آباد: طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے دوران جسمانی درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی گردوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں گردوں کی پتھری اور الیکٹرولائٹ عدم توازن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق 37 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد درجہ حرارت والی ہیٹ ویوز اب معمول بنتی جا رہی ہیں، ایسے میں صرف زیادہ پانی پینا کافی نہیں بلکہ مناسب طریقے سے پانی اور غذائیت کا استعمال بھی ضروری ہے۔

پسینے کے ذریعے جسم سے پانی کے اخراج کے باعث کیلشیم، آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ جیسے اجزا کرسٹل کی شکل اختیار کر کے پتھری بننے کا سبب بنتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ہی وقت میں بہت زیادہ پانی پینے سے خون میں سوڈیم کی سطح کم ہو سکتی ہے، جس سے تھکن، سر درد اور چکر آنے جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ اسی طرح سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال بھی گردوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گردوں کے مسائل کی ابتدائی علامات میں پیشاب کا گاڑھا یا بدبودار ہونا، مقدار میں کمی، پیشاب کے دوران جلن، مسلسل پیاس، تھکن اور کمر یا پہلو میں درد شامل ہیں، جنہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ نے الزامات پر خاموشی توڑ دی، بڑا بیان سامنے آگیا

احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینا چاہیے، چاہے پیاس محسوس نہ بھی ہو۔ اس کے علاوہ سخت جسمانی مشقت کرنے والے افراد معتدل مقدار میں الیکٹرولائٹ سپلیمنٹس استعمال کر سکتے ہیں۔

مزید برآں سبزیوں اور ٹھنڈے پھلوں کا استعمال بڑھانا چاہیے، شدید دھوپ یا ورزش کے فوراً بعد ٹھنڈا شاور لینے سے گریز کرنا چاہیے اور اگر پیشاب میں تبدیلی یا کمر درد محسوس ہو تو فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کرنا ضروری ہے۔

Scroll to Top