ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد ٹاکس میں شرکت کے لیے اسلام آباد پہنچ گیا، دفتر خارجہ

اسلام آباد: اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد مذاکرات میں شرکت کے لیے پاکستان پہنچ گیا۔

اسلام آباد میں “اسلام آباد ٹاکس” کے تحت ایک انتہائی اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا کے اعلیٰ سطحی وفود مذاکرات کے لیے پاکستان پہنچ گئے ہیں۔ اس عمل کو خطے میں کشیدگی میں کمی اور ممکنہ امن معاہدے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت دفاعی، اقتصادی، سیاسی اور قانونی امور سے متعلق اعلیٰ حکام بھی وفد میں شامل ہیں۔

وفد نور خان ایئر بیس اسلام آباد پہنچا جہاں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، چیف آف ڈیفنس فورسز و چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق ایرانی وفد کا اسلام آباد آمد کا مقصد امریکا کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ مذاکرات میں شرکت ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق وفد اس وقت تک باضابطہ مذاکرات شروع نہیں کرے گا جب تک امریکا کی جانب سے پیشگی شرائط پر پیش رفت نہیں ہوتی۔

دوسری جانب امریکی وفد بھی اسلام آباد پہنچنے والا ہے، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی نمائندہ اسٹیو وٹکوف اور سابق صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کُشنر شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں : ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی کیلیے بھرپور کوشش کریں گے، باقی نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں، وزیراعظم

امریکی قیادت نے امید ظاہر کی ہے کہ اگر ایران نیک نیتی کا مظاہرہ کرتا ہے تو امریکا بھی مثبت مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

مذاکراتی عمل کے دوران ایران کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بعض اقدامات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں مشروط طور پر آبنائے ہرمز سے امریکی بحری جہازوں کے گزرنے کی اجازت کا عندیہ شامل ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں باہمی اعتماد اور دشمنی کے خاتمے کی ضمانتیں ضروری ہوں گی۔

پاکستان نے ان اہم مذاکرات کی میزبانی کرتے ہوئے تمام مہمان وفود کو ویزا اور سفری سہولیات فراہم کی ہیں۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

اسلام آباد میں جاری یہ مذاکرات عالمی سطح پر خصوصی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں اور مبصرین کے مطابق اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی رونما ہو سکتی ہے۔

Scroll to Top