پاکستان نہ صرف سفارتی میدان بلکہ مذہبی سیاحت کے شعبے میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کر رہا ہے۔
حال ہی میں تھائی لینڈ اور لاؤس سے تعلق رکھنے والے بدھ راہبوں پر مشتمل 15 رکنی وفد نے پاکستان کے تاریخی بدھ مت ورثے کے اہم مقامات کا دورہ کیا اور اسے اپنی زندگی کے یادگار ترین روحانی لمحات میں سے ایک قرار دیا۔
وفد یکم اپریل 2026 کو اسلام آباد پہنچا، جس کے بعد انہوں نے ملک کے مختلف تاریخی اور مذہبی اہمیت کے حامل مقامات کا سفر کیا، ان میں سوات، ٹیکسلا، پشاور اور لاہور شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق بدھ راہبوں نے خاص طور پر گندھارا تہذیب سے تعلق رکھنے والے آثارِ قدیمہ میں گہری دلچسپی لی اور مذہبی رسومات بھی ادا کیں۔ وفد نے درماراجیکا اسٹوپا کا دورہ کیا جسے تیسری صدی قبل مسیح میں اشوک اعظم سے منسوب کیا جاتا ہے اور جونونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے۔
اسی طرح وفد نے ٹیکسلا میں جولین خانقاہ کا بھی دورہ کیا جو قدیم بدھ مت تہذیب کی اہم یادگار سمجھی جاتی ہے، وہاں راہبوں نے روحانی رسومات ادا کرتے ہوئے اس مقام کو انتہائی مقدس قرار دیا۔
وفد نے مردان کے قریب واقع تخت بھائی کا بھی دورہ کیا جہاں گندھارا تہذیب کے نمایاں آثار موجود ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے سوات کی مختلف وادیوں میں موجود تاریخی مقامات کا مشاہدہ کیا اور انہیں بدھ مت ورثے کا اہم مرکز قرار دیا۔
راہبوں نےپشاور اور لاہور کے میوزیمز میں محفوظ بدھ مت نوادرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا اور پاکستان کی جانب سے ان آثار کے تحفظ کو سراہا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا میں سیاحت کا نیا باب، سہیل آفریدی کی زیر صدارت اجلاس، اربوں روپے کی سرمایہ کاری متوقع
وفد کے ارکان نے کہا کہ انہوں نے تھائی لینڈ میں پاکستانی سفارتخانے کو باقاعدہ درخواست دے کر اس مذہبی سفر کی خواہش ظاہر کی تھی، ان کے مطابق پاکستان کا بدھ مت ورثہ انتہائی منفرد اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔
راہبوں نے اپنے بیان میں پاکستان میں مقامی آبادی کے رویے کو بھی مثبت قرار دیا اور کہا کہ یہ دورہ ان کے لیے روحانی طور پر انتہائی پُرسکون اور یادگار رہا، انہوں نے دیگر بدھ راہبوں کو بھی پاکستان کے تاریخی ورثے کا دورہ کرنے کی ترغیب دینے کا اعلان کیا۔
وفد 10 اپریل 2026 کو خوشگوار یادوں کے ساتھ لاہور سے روانہ ہو کر تھائی لینڈ واپس چلا گیا۔
مقامی شہریوں اور ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے مذہبی سیاحتی دورے خطے میں مثبت تاثر پیدا کر رہے ہیں اور مذہبی سیاحت کی بحالی کو ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔





