پاکستان اور ایران کے درمیان ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے تجارت کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جسے علاقائی تجارت کے فروغ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان کسٹمز کے مطابق اس کوریڈور کے تحت ازبکستان کے لیے پہلی برآمدی کھیپ روانہ کر دی گئی ہے۔ ڈی جی کسٹمز ٹرانزٹ ٹریڈ ثناء اللہ ابڑو نے کوریڈور کے راستے اس پہلی کھیپ کو باقاعدہ روانہ کیا۔
بیان میں بتایا گیا کہ فروزن بیف پر مشتمل یہ کھیپ خصوصی ٹرکوں کے ذریعے گوادر کے راستے ایران پہنچے گی، جہاں سے اسے مزید وسطی ایشیائی ملک ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند منتقل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق پاکستان ایران ٹرانزٹ کوریڈور وسطی ایشیائی ممالک تک برآمدات کے لیے ایک متبادل اور مؤثر راستہ فراہم کرے گا، جس سے نہ صرف تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا بلکہ علاقائی روابط بھی مضبوط ہوں گے۔
مزید بتایا گیا کہ اس کوریڈور کو فعال بنانے کے لیے تفتان، رمدان، سست اور گوادر سمیت اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو بھی فعال کر دیا گیا ہے، تاکہ تجارتی نقل و حمل کو مزید آسان اور مؤثر بنایا جا سکے۔





