اسلام آباد: نئے مالی سال کا آغاز یکم جولائی سے ہوگا، جس کے ساتھ ہی وفاقی حکومت کے پیش کردہ بجٹ پر عملدرآمد بھی شروع ہو جائے گا۔ بجٹ کو قومی اسمبلی کی منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کی شرح میں ردوبدل کرتے ہوئے کچھ ریلیف فراہم کیا ہے۔ مجوزہ ٹیکس سلیب کے مطابق مختلف آمدنی والے افراد کے لیے ٹیکس کی شرحیں واضح کر دی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق 50 ہزار روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے افراد کو انکم ٹیکس سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔
100 ہزار روپے ماہانہ آمدنی پر 1 فیصد انکم ٹیکس لاگو ہوگا، جس کے تحت 1000 روپے ماہانہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
نظر ثانی شدہ سلیب کے مطابق 50,001 سے 100,000 روپے ماہانہ آمدنی پر قابلِ ٹیکس آمدنی کا 1 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
100,001 سے 183,333 روپے آمدنی پر 500 روپے فکس رقم کے علاوہ 100,000 روپے سے زائد آمدنی پر 11 فیصد ٹیکس لیا جائے گا۔
183,334 سے 266,667 روپے آمدنی والے افراد 9,667 روپے فکس کے ساتھ 183,333 روپے سے زائد آمدنی پر 20 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں : فافن کا کے پی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے مؤثر نفاذ کے لیے جامع اصلاحات کا مطالبہ
266,668 سے 341,667 روپے آمدنی پر 26,333 روپے فکس کے علاوہ اضافی آمدنی پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔
341,668 سے 446,667 روپے ماہانہ کمانے والوں کے لیے 45,083 روپے فکس کے ساتھ اضافی آمدنی پر 29 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔
446,668 سے 583,333 روپے ماہانہ آمدنی پر 81,333 روپے فکس کے علاوہ اضافی رقم پر 32 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔
583,333 روپے سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والے افراد 118,667 روپے فکس کے ساتھ اضافی آمدنی پر 35 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔
یہ نئے ٹیکس اقدامات مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کی منظوری کے بعد یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گے۔





