خاموش سفارتکاری رنگ لے آئی؟ امریکا ایران معاہدہ، پاکستان کی ثالثی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جانے لگا

خاموش سفارتکاری رنگ لے آئی؟ امریکا ایران معاہدہ، پاکستان کی ثالثی کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جانے لگا

پاکستان کی ثالثی کوششیں قابل تعریف، امریکا اور ایران کے امن معاہدے کا عالمی برادری کی جانب سے خیرمقدم۔

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے امن معاہدے پر عالمی برادری کا مثبت ردعمل سامنے آگیا ہے، جسے خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے معاہدے کو تنازع کے پرامن حل کی جانب ایک اہم اور مثبت قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ پیش رفت مستقل جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔ انہوں نے مذاکراتی عمل میں پاکستان، قطر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کے کردار کو بھی قابلِ تعریف قرار دیا۔

برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے بھی اس معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا اور خطے کی صورتحال میں بہتری آئے گی۔

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں دیرپا امن اور سلامتی کی راہ ہموار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا طویل عرصے سے ایسی مثبت پیش رفت کی منتظر تھی۔ صدر ایردوان نے خبردار کیا کہ معاہدے کے بعد اشتعال انگیزی اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے اور ممکنہ تخریب کاری کے خلاف چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے پاکستان کی ثالثی کوششوں کو غیر معمولی اور قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی کامیاب سفارتکاری نے اس معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے بھی معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے امریکی صدر اور ایرانی قیادت کو سفارتی کامیابی پر مبارکباد دی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ عالمی معیشت کو نئی توانائی دے سکتا ہے اور مشرق وسطیٰ کو زیادہ محفوظ بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

Scroll to Top